حال ہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے سنگاپور میں منعقدہ رائٹرز نیکسٹ ایشیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ پروجیکٹ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک مختلف ٹیکنالوجی پارٹنرز کے ساتھ رابطے میں ہے جبکہ ورچوئل اثاثہ جات کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی پائلٹ پروجیکٹ کا عنقریب آغاز، کرپٹو ریگولیشن منظور
گورنر جمیل احمد کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں لائسنسنگ اور ریگولیشن کا مضبوط فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے اور عوام کو محفوظ و شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی پاکستان کو ڈیجیٹل کرنسی کی ضرورت ہے، اس سے پاکستان کی معیشت پر کیا اثر پڑے گا اور یہ کرپٹو کرنسیوں کے مقابلے میں کتنی مختلف ہوگی؟
معاشی امور کے ماہر راجہ کامران نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان کی مقامی ڈیجیٹل کرنسی کو کرپٹو کرنسی کے ساتھ موازنہ کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ ان کے مطابق بٹ کوائن یا دیگر کرپٹو کرنسیاں غیر مرکزی (decentralized) نظام پر چلتی ہیں جنہیں کوئی ریاست یا بینک کنٹرول نہیں کرتا، اسی وجہ سے ان کی قیمت بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا لیکن پاکستان کی مجوزہ CBDC مکمل طور پر اسٹیٹ بینک کے کنٹرول میں ہوگی اور اس کی ویلیو وہی ہوگی جو روپے کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شہری کے پاس 1000 روپے کی ڈیجیٹل کرنسی ہے تو وہ اتنی ہی قدر رکھتی ہے جتنی کاغذی نوٹ کی۔ یہ کرپٹو کرنسی کی طرح ایک الگ سرمایہ کاری یا قیاس آرائی (speculation) کا ذریعہ نہیں ہوگی بلکہ صرف ادائیگیوں اور لین دین کے لیے استعمال ہوگی۔
راجہ کامران کے مطابق اس فرق کی وجہ سے CBDC عوام کے لیے زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد ہے کیونکہ اس کی پشت پر ریاست کی گارنٹی ہوگی جب کہ کرپٹو کرنسیز میں کسی بھی وقت قیمت گرنے یا مارکیٹ کریش ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل کرنسی کے اجرا کو ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کرپٹو کرنسی کے ماہر ڈاکٹر اسامہ احسن نے کہا ہے کہ اس کرنسی کو پورے ملک میں قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد دکاندار، کاروباری شخص، ریٹیلر یا عام صارف سب ہی افراد اسے عام پیسے کی طرح قبول کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوگی کہ اسٹیٹ بینک اس کی ضمانت دے گا جس سے یہ کرنسی نجی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوگی کیونکہ ڈیجیٹل کمپنیاں کسی بھی وقت بند یا ڈیفالٹ ہو سکتی ہیں جب کہ حکومت اپنی کرنسی کی مکمل ذمہ دار ہوتی ہے۔
ڈاکٹر اسامہ کے مطابق اس اقدام سے حکومت کو سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوگا کہ کاغذی کرنسی کی حوصلہ شکنی کے بعد جب لوگ ڈیجیٹل کرنسی کی طرف آئیں گے تو حکومت ہر لین دین کو ٹریک کر سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ ابھی میں جتنی چاہوں کاغذی کرنسی اپنے گھر میں جمع کر سکتا ہوں اور حکومت کو اس کا علم نہیں ہوتا لیکن ڈیجیٹل کرنسی والٹس کی شکل میں ہوگی جس کے ذریعے تمام رقوم کا ریکارڈ محفوظ رہے گا اور حکومت کو سرکولیشن کا درست اندازہ ہو سکے گا۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا نیا نظام متعارف، قومی سطح پر بٹ کوائن ذخائر قائم کرنے کا منصوبہ
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال سے منی لانڈرنگ، اسمگلنگ اور کالے دھن کے کلچر پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں مزید کہا کہ اس کے علاوہ تمام شہری فنانشل سسٹم کا حصہ بن سکیں گے اور ٹیکسز اکٹھا کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔
ڈاکٹر اسامہ احسن کے بقول یہ ایک مجموعی طور پر مثبت قدم ہے اور اگر حکومت تمام لین دین کو ڈیجیٹل کرنسی کے دائرے میں لے آئے تو غیر قانونی سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ کی حوصلہ شکنی ممکن ہو جائے گی۔
ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ کا اس بارے میں کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) متعارف کروانے کا مقصد مالیاتی نظام کو مزید شفاف، تیز اور محفوظ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسٹیٹ بینک کا یہ قدم بلاشبہ مالیاتی شعبے کی جدیدیت کی جانب اہم پیش رفت ہے لیکن اس کے عملی فوائد اس وقت ہی حاصل ہوں گے جب عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ کرنسی موبائل والٹس یا ایزی پیسہ جیسے موجودہ ڈیجیٹل نظام سے کس طرح مختلف ہوگی۔
ظفر پراچہ کے مطابق CBDC براہ راست اسٹیٹ بینک کے تحت جاری ہوگی اس لیے اس میں کرنسی کی اصل قدر پر ریاست کی مکمل ضمانت ہوگی جبکہ موبائل والٹس صرف کرنسی کی ترسیل کا ذریعہ ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں کرپٹو کرنسی کب قانونی ہونے جا رہی ہے؟
وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نظام کو شفاف اور صارف دوست بنایا گیا تو یہ نہ صرف کرپشن اور غیر دستاویزی معیشت کو کم کرے گا بلکہ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں بھی سہولت فراہم کرے گا تاہم اس کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی اتنی ہی ضروری ہے۔













