سینیئر صحافی جاوید چوہدری نے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کے اکاؤنٹس کے بارے میں اہم انکشافات کیے ہیں۔
اپنے پوڈکاسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ حکام نے ڈکی بھائی کے خلاف جب تفصیلات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا کہ ان کے 6 لاکھ درہم دبئی میں موجود ہیں جنہیں قبضے میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: جوا ایپلی کیشنز کی تشہیر کا کیس، ڈکی بھائی کے ریمانڈ میں چوتھی بار توسیع
انہوں نے کہا کہ ڈکی بھائی کے پاکستان میں موجود اکاؤنٹس میں 15 کروڑ روپے اور ڈیجیٹل والیٹس میں 3 لاکھ 25 ہزار روپے ملے، جنہیں حکومت نے تحویل میں لے لیا۔
جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی (این سی سی آئی اے) نے یہ ساری رقم حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کروا دی۔ معاملے کی مزید تحقیقات کے دوران کئی اور لوگوں پر بھی ہاتھ ڈالا گیا، جن میں محمد حسین، اقرا کنول اور مدثر حسین شامل ہیں۔
واضح رہے کہ معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی جوئے کی غیر رجسٹرڈ ایپس کی تشہیر کے مقدمے میں گرفتار ہیں اور اس وقت جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کے لیے بڑا ریلیف، جسمانی ریمانڈ میں توسیع کیخلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر
این سی سی آئی اے کے مطابق ڈکی بھائی نے اپنے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر رجسٹرڈ جوا ایپلی کیشنز کی تشہیر کی، جس کے باعث کئی افراد کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ تفتیش کاروں کے مطابق ملزم کے موبائل سے واٹس ایپ چیٹس اور ادائیگیوں کے شواہد بھی ملے ہیں، جو ان کے ان ایپلی کیشنز کے ساتھ روابط کو ثابت کرتے ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے محمد سرفراز چوہدری نے حالیہ بیان میں انکشاف کیا کہ صرف ڈکی بھائی اور رجب بٹ ہی نہیں بلکہ مزید افراد بھی زیرِ تفتیش ہیں۔














