زیارت بازار بدستور بند: ’یہی حالات رہے تو فاقوں پر مجبور ہو جائیں گے‘

جمعہ 5 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے خوبصورت اور سیاحتی مقام زیارت کا مرکزی بازار گزشتہ 18 دنوں سے مکمل طور پر بند ہے جس کی وجہ سے مقامی تاجروں اور مزدوروں کا روزگار بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر کمانے اور کھانے والے افراد فاقوں کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ ہوٹل، میڈیکل اسٹورز اور دکانیں سب بند پڑی ہیں۔

’چولہا ٹھنڈا پڑ گیا ہے‘

31 سالہ محمد صادق پچھلے 7 برس سے زیارت بازار میں پرچون کی دکان چلا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم روز کما کر روز کھانے والے لوگ ہیں لیکن بازار بند ہونے کی وجہ سے دکان کا شٹر اٹھائے 18 دن ہوچکے جس کے باعث گھر کا راشن ختم ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر صورتحال یہی رہی تو ہم فاقوں پر مجبور ہوجائیں گے‘۔

محمد صادق جیسے کئی دکاندار اور مزدور موجودہ صورتحال سے شدید متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو خاندان کے افراد کو 2 وقت کی روٹی مہیا کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

سیاحت کا مرکز سناٹے کا شکار

گزشتہ 10 برسوں سے سیاحوں کی آمد پر گزر بسر کرنے والے زیارت کے مقامی ریسٹورنٹ مالک نصیب اللہ کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹس خالی ہیں، سیاح غائب ہیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بازار کبھی زندگی کی علامت تھا لیکن اب ایک ویران، سنّاٹے کا منظر پیش کرتا ہے‘۔

سیاحت زیارت کی معیشت کا سب سے بڑا سہارا ہے لیکن اس وقت یہ علاقہ مکمل طور پر منجمد ہو چکا ہے۔ ہوٹلوں کے کمروں میں ان دنوں مہمان نہیں بلکہ خاموشی بسی ہوئی ہے اور بازار کی گلیوں میں لوگوں کی چہل پہل کی بجائے خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

نو گو ایریا، گرفتاریاں

18 اگست سے زیارت کا مرکزی بازار اور گردونواح کے 54 حساس علاقے انتظامیہ کی جانب سے نو گو ایریا قرار دیے گئے ہیں۔

اس فیصلے کی بنیاد 17 اگست کو خانہ وازہ کے علاقے میں ہونے والی ایک قبائلی جھڑپ ہے جو زمین کے تنازع پر کاکڑ قبیلے کی 2 شاخوں سنرزئی اور سیدزئی کے درمیان ہوئی تھی۔ اس جھڑپ میں 2 افراد جاں بحق ہوئے۔

خونریزی کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ نے فوری طور پر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے تمام کاروباری سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔

مقامی ذرائع کے مطابق اب تک 30 سے زائد افراد کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا جا چکا ہے۔

انتظامیہ کا مؤقف اور مقامی آبادی کی بے بسی

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اقدامات امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ مزید جانی نقصان نہ ہو۔ تاہم مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے معاشی قتل کے مترادف ہیں۔

زیارت کے تاجر، ہوٹل مالکان اور محنت کش روز اس امید پر جاگتے ہیں کہ شاید آج بازار کھل جائے لیکن ابھی تک کسی مثبت پیش رفت کی اطلاع نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے: شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ