وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ حکومت نے بارشوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل تیاریاں کر رکھی ہیں۔ ان کے مطابق تمام محکمے اور وزرا پوری طرح متحرک اور فعال ہیں۔
فلڈ مانیٹرنگ سیل کے دورے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ انہوں نے سکھر اور لاڑکانہ کے کمشنرز کے علاوہ وزیر آبپاشی اور سیکرٹری سے تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سندھ: گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع، آبادی کو انخلا کی ہدایت
مراد علی شاہ نے کہا کہ سہ پہر تین بجے کی رپورٹ کے مطابق پنجند بیراج پر پانی کی آمد 6 لاکھ کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ جام خان شورو اس وقت موقع پر موجود ہیں اور اطلاعات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں پانی کی مقدار 7 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پنجند کے قریب بہاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد وہاں پانی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق تونسہ سے 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، اور ان دونوں مقامات کو مدنظر رکھتے ہوئے 8 لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلا کا مقابلہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ریلا تاخیر کا شکار ہوا ہے لیکن 9 ستمبر کو گدو بیراج پر پانی کے پیک کی توقع ہے۔
’حکومت 8 لاکھ کیوسک پانی سے نمٹنے کے لیے مکمل انتظامات کر رہی ہے‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت 8 لاکھ کیوسک پانی سے نمٹنے کے لیے مکمل انتظامات کر رہی ہے۔ متاثرہ دیہات سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے، بیشتر افراد نے خود بھی انخلا شروع کر دیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے انہیں مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جائے گا۔
’ماضی کے تجربے کی بنیاد پر ایسے گھروں کی تعمیر بھی کی گئی ہے جو پانی کی سطح بلند ہونے کے باوجود محفوظ رہیں گے، جبکہ کمشنرز نے انخلا کے لیے درکار تمام سہولتیں فراہم کر دی ہیں۔‘
مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، طبی امداد کے مراکز فعال ہیں اور مویشیوں کے لیے باڑوں کی جیو ٹیگنگ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں سیلاب کب داخل ہوگا، حکومت کی تیاریاں کیا ہیں؟
ان کے مطابق گدو بیراج کے بالائی علاقوں، خصوصاً کوہ سلیمان میں کسی بڑی بارش کا امکان نہیں، تاہم تھرپارکر، ٹھٹھہ، حیدرآباد، جامشورو اور دادو میں بارشیں متوقع ہیں۔ اور بارشوں کے پیش نظر بھی تمام محکمے اور وزرا الرٹ ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ناصر شاہ، مکیش چاؤلہ، جام دھاریجو، محمد علی ملکانی اور ریاض شاہ سمیت صوبائی اسمبلی کے دیگر نمائندے بھی اپنے اپنے علاقوں میں موجود رہ کر حالات کی نگرانی کر رہے ہیں۔














