مارک زکربرگ کا مارک زکربرگ کیخلاف مقدمہ، امریکا میں حیران کن قانونی جنگ

پیر 8 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست انڈیانا سے تعلق رکھنے والے دیوالیہ پن کے وکیل مارک ایس زکربرگ نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ کمپنی نے بار بار ان کے اکاؤنٹس اس بنیاد پر معطل کیے کہ وہ مبینہ طور پر فیس بک کے سی ای او اور ہم نام مارک ای زکربرگ کی نقالی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بانی فیس بک مارک زکربرگ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص بن گئے

میریون سپیریئر کورٹ میں دائر اس مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ 2022 سے 2025 کے دوران وکیل کے ذاتی اور پیشہ ورانہ اکاؤنٹس متعدد مرتبہ بند کیے گئے۔

 https://Twitter.com/Global_Folder/status/1964357268583174399

ان کے بقول، ان کا ذاتی پروفائل 9 بار معطل ہوا جبکہ ان کی لا فرم کا صفحہ 5 مرتبہ ہٹایا گیا، اس سے نہ صرف مؤکلین سے رابطے میں رکاوٹ پیدا ہوئی بلکہ فیس بک پر دیے گئے لگ بھگ 11 ہزار ڈالر کے اشتہارات بھی ضائع ہوگئے۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا نے لاپرواہی اور معاہدے کی خلاف ورزی کی، کیونکہ وہ ایک ہی نام رکھنے والے صارفین میں فرق کرنے میں ناکام رہی اور اپنی نگرانی کے نظام کو درست طریقے سے استعمال نہ کیا۔

درخواست گزار وکیل کے مطابق یہ ایسے ہے جیسے آپ بل بورڈ خریدیں اور کوئی آ کر اس پر چادر ڈال دے۔

میٹا نے بعد میں تسلیم کیا کہ اکاؤنٹس غلطی سے معطل کیے گئے تھے اور انہیں بحال کر دیا گیا، لیکن وکیل اب بھی ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بار بار کی معطلی نے ان کے کاروبار اور ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

مزید پڑھیں:کیا انسٹاگرام اور واٹس ایپ مارک زکربرگ کی ملکیت نہیں رہیں گے؟ فیصلہ عدالت کرے گی

یہ کیس سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے اور صارفین اسے اس لحاظ سے دلچسپ قرار دے رہے ہیں کہ مارک زکربرگ نے مارک زکربرگ پر مقدمہ کر دیا۔

 انڈیانا کے وکیل نے بھی اس صورتحال کو مزاحیہ انداز میں لیا اور کہا کہ اگر دوسرا مارک زکربرگ ذاتی طور پر معافی مانگنا چاہے یا پھر مجھے اپنی یاٹ پر مدعو کرے تو میں انکار نہیں کروں گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا