بڑا جی ڈی پی، چھوٹی اوقات

جمعرات 11 ستمبر 2025
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدیوں میں ایک رونما ہونے والی بڑی تبدیلی کے تناظر میں ہمارے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا ہے۔ وہ سوال جو ہم سب سے جڑا ہے، اس بدلتی دنیا میں پاک انڈیا کشمکش کیا رخ اختیار کرے گی؟ یا یہ کہ یہ تبدیلی پاک انڈیا تنازع پر کیا اثر ڈالے گی؟ خوش قسمتی سے داخلی طور پر غیر مستحکم سا پاکستان خارجہ محاذ پر ہمیشہ بہت مستحکم رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی وقتی طور پر مضر نظر آنے والی بعض پالیسیاں بھی کچھ مدت بعد درست ثابت ہوئی ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں مگر سردست ہم اصل موضوع پر ہی فوکسڈ رہیں گے۔

آپ چین کے حوالے سے پاکستان کی 75 سالہ پالیسی دیکھیے۔ ماؤ انقلاب کامیاب ہوا اور جدید چین کا خواب حقیقت بنا تو پاکستان پہلا ملک تھا جس نے اسے تسلیم کیا، اور پی آئی اے پہلی انٹرنیشنل ایئرلائن تھی جس کی پرواز بیجنگ میں لینڈ ہوئی۔ نو آزاد چین کے ساتھ پاکستان اور انڈیا دونوں کا سرحدی معاملہ اٹھا۔ ہمارے حصے میں چین کے ساتھ جو سرحد آئی تھی اس پر کچھ ابہام تھا۔ جبکہ انڈیا کا چین کے ساتھ جو سرحدی معاملہ تھا اس میں چینی مؤقف کلیئر کٹ درست تھا۔ ہم نے چین کے ساتھ سرحدی معاہدہ کرکے مسئلہ بغیر کسی کھینچا تانی کے حل کرلیا۔ اس کے لیے ہم 5180 مربع کلومیٹر کی شکسگم ویلی سے دستبردار ہوگئے۔ مگر چین سے ہونے والے معاہدے میں ایک شق ہم نے یہ بھی ڈلوا لی کہ جب بھی مسئلہ کشمیر حل ہوگا، دونوں ممالک اس مسئلے کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ یوں چین کے ساتھ ہماری ایک باقاعدہ سرحد وجود میں آگئی۔

ظاہر ہے چین نے ہمارے قدم کو بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا، اور آنے والے ماہ و سال میں پاک چین تعلقات کی دوستانہ روح میں اس کا کردار بھی اہم ثابت ہوا۔ بات یہیں نہ رکی بلکہ ہم باہم روٹھے چین امریکا کے مابین سہولت کار بھی بن گئے۔ ہم نے دونوں کے تعلقات قائم کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں پہلے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا خفیہ دورہ بیجنگ کروایا اور اگلے مرحلے میں سال بعد امریکی صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورے کی راہ ہموار کی۔ اس کے نتیجے میں امریکا اور چین کے مابین آگے چل کر جو معاہدے ہوئے ان میں سب سے اہم یہ تھا کہ امریکا چائنیز طلبہ کے لیے اپنی یونیورسٹیز کے دروازے کھولے گا۔

امریکا نے یہ معاہدہ اس خوش فہمی کے ساتھ بصد خوشی کرلیا کہ جو چینی طالب علم امریکا میں تعلیم حاصل کریں گے، وہ آگے چل کر ’چائنیز دیسی لبرلز‘ ثابت ہوں گے، اور انقلاب کا دھڑن تختہ کردیں گے۔ مگر وہ طالب علم توقع کے بالکل برخلاف اپنے ملک کے وفادار ثابت ہوئے۔ وہ تعلیم حاصل کرکے اپنے فاقہ زدہ ملک لوٹے۔ اور آج کے اس چین کے خالق بنے جو امریکا سے دنیا کا اختیار حاصل کر رہا ہے۔ کیسی دلچسپ بات ہے کہ یہ کارنامہ ہمارے اس حکمران نے انجام دیا جو ہماری سیاسی تاریخ کا سب سے بدنام کردار ہے، یعنی جنرل یحییٰ خان۔

اب ذرا گاندھی جی، نہرو اور مولانا آزاد کے ہندوستان کی چائنیز پالیسی کا حال بھی دیکھ لیجیے۔ برطانوی راج کے دوران گورے نے چینی سرحد کے قریب بھی بہت سی وارداتیں کر رکھی تھیں۔ جنہیں چین نے کبھی بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ سب سے اہم اروناچل پردیش والا معاہدہ ہی دیکھ لیجیے۔ وہ معاہدہ برٹش انڈیا نے اس تبت کے ساتھ کیا جو سرے سے ریاست ہی نہ تھا۔ اور اس کی آڑ میں چینی علاقے پر قبضہ کرلیا۔ چالیس سال بعد انقلابی چین کے مالک بنے تو انہوں نے انڈیا کے ساتھ یہ مسئلہ اور باقی دونوں سرحدی تنازعات بھی اٹھا لیے۔ کیا انڈیا نے حل کی راہ اختیار کی؟ نہیں، بلکہ اس کا رویہ اس ناجائز قابض کا رہا جو قبضہ کیا ہوا پلاٹ چھتر کھائے بغیر خالی نہیں کرتا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ 1962 کی چین انڈیا جنگ جس میں اسے اکسائی چن سے ہاتھ دھونے پڑے۔ صرف یہی نہیں بلکہ 2019/ 2020 میں انڈین فوجیوں کی ڈنڈوں سے درگت بنی، اور اب نئے عالمی لیڈر کی شکل میں ابھرتی چائنیز سپر طاقت کا سامنا ہے۔

اب ذرا یہ دیکھیے کہ پاکستان اور انڈیا نے پچھلے 75 سالوں میں چین کے ساتھ تعلقات کی اپنی جو تاریخ ترتیب دی ہے، اس کے نتائج اب ان دونوں کے لیے کیا نکلنے جا رہے ہیں۔ چینیوں کی بڑی خوبیوں سے ایک یہ ہے کہ یہ بھولتے نہیں۔ جن کی یادداشت صدیوں پر محیط ہو، ان کے لیے پچھلے 75 سال 75 منٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ اس یادداشت کا ہی نتیجہ ہے کہ اس عظیم قوم نے اپنی ترقی کے دور میں بی آر آئی پراجیکٹ شروع کیا تو پاکستان کے لیے اس میں سی پیک کے نام سے اسپیشل حصہ رکھا۔ یعنی ہمیں وہ کچھ بھی دینے کا فیصلہ کیا جو بی آر آئی سے جڑے باقی ممالک کے لیے نہیں تھا۔

یاد کیجیے 9 برس قبل جب سی پیک کا اعلان ہوا تو یہ وہ وقت تھا جب چین ابھی عالمی اختیار کے حصول سے کئی سال دور تھا۔ ہم سب سی پیک پر بہت زیادہ خوش بھی ہوئے تھے اور ایک دوسرے کو یہ بھی بتایا تھا کہ اس کے ثمرات کیا کیا ہوں گے۔ ہم نے جو بھی ڈسکس کیا تھا وہ سی پیک کے ارد گرد ہی تھا۔ سی پیک سے آگے کچھ نہ تھا۔ اب جب چین نے عالمی اختیار کے حصول کی رسمی کارروائی شروع کردی ہے تو ہمارے لیے سی پیک سے اگلے مرحلے کا پیکج بھی تیار ہے۔ وہ پیکج جس کے سامنے سی پیک کا ہی قد گھٹ گیا ہے۔ اس اگلے پیکج کے تحت پاکستان جنوبی ایشیا کی ڈومننٹ پاور بننے جا رہا ہے۔ بالادستی کے اس دور کا دیباچہ ہم 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب لکھ چکے۔ ہم نے ثابت کردیا ہے کہ چین ہم پر پورے شرح صدر کے ساتھ بھروسہ کرسکتا ہے۔ اور چین کیا امریکا بھی زبان حال سے تسلیم کر رہا ہے کہ ہم یہ رول نبھانے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنرل عاصم منیر کے ناز نخرے ایویں ہی نہیں اٹھائے جا رہے۔

جب آپ کا عالمی پروفائل بڑھتا ہے تو دنیا آپ سے پیش بھی اسی حساب سے آتی ہے۔ ہم نے تاریخ کے ہر موڑ پر امریکی مفادات پر اپنے مفادات کو ترجیح دے کر اسے ناراض تو کیا ہے، مگر اسے ہاتھ سے بھی نہیں نکلنے دیا۔ یہ کارنامہ صرف ہم نے ہی انجام دے رکھا ہے ایک ہی وقت میں امریکا اور چین دونوں سے تعلقات ہیں، اور دونوں میں سے ایک بھی ہم سے یہ نہیں کہہ رہا کہ دوسرے کو چھوڑیے۔ انڈیا سے یہ مطالبہ ہو رہا ہے کہ نہیں؟ ہم کیوں کامیاب ہیں اور انڈیا کیوں ناکام؟

کیونکہ ہم نے ثابت کر رکھا ہے کہ چین سے ہماری دوستی امریکا کے بھی مفاد میں ہے، اور امریکا سے ہمارے تعلقات چین کے بھی مفاد میں ہیں۔ یوں یہ دونوں عالمی طاقتیں ہم سے مطمئن بھی ہیں اور ان میں سے ایک بھی یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ دوسرے سے تعلق ختم کیجیے۔ کیا انڈیا کی خارجہ پالیسی میں ایسی کوئی خوبی ہے؟ ہم چین اور امریکا کے بیچ وہ مستقل کڑی ہیں جس نے آج بھی ان دونوں کو باہم مربوط رکھا ہوا ہے۔ کیا انڈیا میں یہ صلاحیت ہے؟ چین اور امریکا چھوڑیے وہ تو ایران اور اسرائیل کے بیچ بھی کڑی نہ بن سکا۔

آخری بات یہ کہ پاکستان اور انڈیا دونوں کو آج چین سے اسی سلوک کا سامنا ہے جس کے اپنے اپنے کردار کی وجہ سے یہ مستحق بنے ہیں۔ ہمیں مفت میں نہیں نوازا جا رہا۔ یہ ہماری دہائیوں پر محیط خارجہ پالیسی کے ثمرات ہیں جو اب ہمیں ملنے جا رہے ہیں۔ جبکہ انڈیا کو یہ خوش فہمی مار گئی کہ وہ مستقبل کی عالمی طاقت ہے۔ اس کی یہ خوش فہمی دور کرنے کا عمل ہم چین کی پارٹنرشپ سے شروع کرچکے۔ جلد ثابت ہوجائے گا کہ عالمی طاقت کیا، یہ تو جنوبی ایشیا سطح کی لوکل طاقت بھی نہیں۔ اور یہ اس لیے ہوگا کہ مولانا آزاد انہیں یہ بتانا بھول گئے تھے کہ محض جی ڈی پی بڑھنے سے بات نہیں بنتی، اوقات بھی بڑھانی پڑتی ہے۔ اوقات ٹکے کی ہو تو بڑا جی ڈی پی کسی کام کا نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp