لنڈی کوتل میں مصنوعی اعضا کی مفت فراہمی، سینکڑوں افراد کے لیے نئی زندگی

ہفتہ 13 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لنڈی کوتل میں پہلی بار معذور افراد کے لیے مفت مصنوعی اعضا لگانے کا بندوبست کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ کامیابی سے چلنے پھرنے اور روزگار کے حصول کے قابل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: معذوری کے باوجود ہمت نہ ہارنے والی ڈاکٹر انعم نجم کی دلچسپ کہانی

آئی سی آر سی اور بی پاس کے تعاون سے قائم اس سینٹر میں سینکڑوں مریضوں کو مصنوعی ہاتھ اور پاؤں لگائے جاتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں قائم اس سینٹر کے بقول اس عمل پر لاکھوں روپے کے اخراجات آتے ہیں لیکن مریضوں سے کوئی پیسہ وصول نہیں کیا جاتا۔

یاد رہے کہ پہلے یہ معذور افراد علاج کے لیے افغانستان کے شہر جلال آباد جاتے تھے لیکن اب ان کو لنڈی کوتل میں ہی یہ سہولت میسر ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیے: معذور افراد کی مدد کرنے والا اسپیشل پرسن، سید احسان گیلانی

لنڈی کوتل اسپتال میں ان کے لیے قائم سینٹر کے انچارج ڈاکٹر امتیاز شاہ نے وی نیوز کو بتایا کہ اب یہ مریض خوش اور خرم دکھائی دیتے ہیں کیونکہ انہیں ہم نے چلنے پھرنے کے قابل بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: بولتے پاؤں: کوئٹہ کے پینٹر علی گوہر، ہاتھوں سے معذور لیکن فنکاری سے بھرپور

انہوں نے کہا کہ اب وہ دوسروں کے سہارے کی بجائے خود چل پھر سکتے ہیں اور روزگار بھی کر سکتے ہیں۔

اب تک کتنے افراد مستفید ہوئے؟

ڈاکٹر امتیاز شاہ نے بتایا کہ اب تک 300 سے زائد افراد کو مصنوعی اعضا لگائے جاچکے ہیں۔ ان افراد نے بم دھماکوں یا دیگر حادثات میں اپنے اعضا کھوئے تھے۔

ان کے بقول نئی زندگی ملنے پر مریض خوش و خرم دکھائی دیتے ہیں اور وہ حکومت پاکستان، آئی سی ار سی اور بی پاس کے مشکور ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سینکڑوں ذہنی معذور بچوں کے لیے ’چمبیلی‘ نام کا ادارہ کیسے کام کرتا ہے؟

اس حوالے سے مریضوں کا کہنا ہے کہ علاج بہت مہنگا تھا جس کی وجہ سے وہ مصنوعی اعضا لگوانے سے قاصر تھے لیکن پھر وہ سہولت مفت مل گئی جس کی وجہ سے وہ بیحد خوش ہیں۔ دیکھیے ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp