بھارتی کانگریس رہنما ششی تھرور نے ایشیا کپ ٹورنامنٹ کے دوران بھارتی کرکٹرز کے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانے کے تنازعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کھیل کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
ششی تھرور نے کہا کہ اگر ہم پاکستان کے بارے میں اتنا شدت سے محسوس کرتے ہیں تو ہمیں کھیلنا ہی نہیں چاہیے تھا لیکن اگر ہم ان سے کھیل رہے ہیں تو کھیل کے جذبے کے تحت کھیلنا چاہیے اور ہمیں ان سے ہاتھ ملانا چاہیے تھا، بھارتی ٹیم منفی رویہ نہ اپنائے۔
یہ بھی پڑھیں: ہاتھ ملانے میں حرج نہیں تھا، سابق بھارتی کپتان اظہرالدین کی بھارتی ٹیم پر شدید تنقید
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے یہ پہلے بھی کیا ہے، 1999 میں جب کارگل کی جنگ جاری تھی اسی دن جب ہمارے سپاہی جان دے رہے تھے اس وقت ہم انگلینڈ میں ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف کھیل رہے تھے۔ ہم نے تب بھی ان سے ہاتھ ملائے کیونکہ کھیل کا جذبہ ملکوں، فوجوں اور دیگر معاملات سے مختلف ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین نے بھارتی کرکٹ ٹیم پر شدید تنقید کی تھی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہاتھ ملانے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ جب آپ میچ کھیل رہے ہوتے ہیں تو کھیل اخلاق و آداب کے مطابق ہونا چاہیے، مجھے معلوم نہیں کہ اس معاملے میں کیا مسئلہ تھا، میں واقعی سمجھ نہیں پا رہا کہ ہاتھ نہ ملانا کیوں ضروری سمجھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کپتان سوریا کمار کا مشتاق احمد سے مصافحہ، ’اب ان کی دیش بھگتی کہاں گئی‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم نے میچ کھیلنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے، تو پھر مکمل جذبے اور عزت کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آپ احتجاج کی کیفیت میں کھیل رہے ہوں، تو بہتر ہے کہ کھیل ہی نہ ہو۔ احتجاج کے تحت کھیلنے کا کوئی مطلب نہیں۔ اگر کھیلنا ہے تو پورے جذبے کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔ ورنہ کھیلنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں بھارتی کپتان نے ٹاس کے بعد پاکستانی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا، میچ کے بعد بھی بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔
اس سے قبل گروپ مرحلے کے میچ میں بھی دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ٹاس کے موقع پر ہاتھ نہیں ملایا تھا، پھر بعد ازاں میچ کے اختتام پر بھی بھارتی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔













