تحریک انصاف کے 35 ایم پی اے اپوزیشن کو ووٹ دے سکتے ہیں، ہم نمبر پورا ہونے تک اپنے امیدوار کو مشکل میں نہیں ڈالیں گے: جے یو آئی

جمعرات 9 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان کامران مرتضیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قریباً 35 ارکانِ اسمبلی اپوزیشن امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن اپنے وزیراعلیٰ کے امیدوار کو اُس وقت تک میدان میں نہیں لائے گی جب تک نمبر گیم پوری طرح واضح نہ ہو جائے۔

’وی نیوز‘ کو خصوصی انٹرویو میں کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت 3 دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک ایفیڈیویٹ گروپ، ایک عمران خان گروپ اور ایک علی امین گنڈاپور گروپ۔ اگر یہ تینوں گروپ متحد رہے تو حکومت برقرار رہ سکتی ہے، لیکن بکھرنے کی صورت میں اپوزیشن فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد اپوزیشن متحرک، کیا پختونخوا میں پی ٹی آئی نئی حکومت بنا سکے گی؟

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں باہمی مشاورت میں مصروف ہیں اور خیبر پختونخوا میں سیاسی صورتِحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بدل رہی ہے۔ اگر پی ٹی آئی کا اتحاد برقرار رہا تو حکومت کچھ عرصہ چل سکتی ہے، لیکن اگر دھڑے بندی بڑھی تو نیا سیاسی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ قریباً 35 ایم پی ایز ایسے ہیں جن کے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہ کسی اور کی مرضی سے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اگر یہ ارکان اپوزیشن کی طرف آ گئے تو نتائج یکسر بدل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور کے متبادل سہیل آفریدی ہی کیوں؟ شیر افضل مروت نے سوال اٹھا دیا

انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام اس وقت نمبر گیم مکمل ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔ ہم کسی کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ جب تک نمبر پورے نہیں ہوتے، ہم اپنا امیدوار مثلاً مولانا لطف الرحمن میدان میں نہیں اتاریں گے۔

جے یو آئی رہنما کے مطابق، اپوزیشن کا پشاور اجلاس اسی مقصد کے لیے ہو رہا ہے تاکہ وزن اور حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔ اگر موقع ملا اور صوبے میں امن و امان اور کرپشن پر قابو ممکن ہوا تو ذمہ داری قبول کی جا سکتی ہے، لیکن جلد بازی نقصان دہ ہوگی۔

مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کی ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی

انہوں نے علی امین گنڈاپور کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ ان کے خلاف مقدمات کی نوعیت سنگین ہے اور وہ ممکنہ طور پر طویل قانونی عمل سے گزریں گے۔ انہوں نے کسی سے بنا کے نہیں رکھی، نہ کسی کی عزت کی، اب جو بویا ہے وہی کاٹنا پڑے گا۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہیں، اور کوئی بھی فیصلہ مکمل مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمن 3 دن سے خیبر پختونخوا میں ہیں، وہ خود حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، اسی بنیاد پر حتمی فیصلہ ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم