وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو امن و امان سے کوئی غرض نہیں بلکہ ان کو دہشتگردوں کو خیبر پختونخوا میں پناہ گاہیں فراہم کرنے اور حالات خراب کرنے سے غرض ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی مقامی اور بین الاقوامی طور پر دہشتگردوں کا ہمدرد اور سہولت کار رہی ہے، قوم کے بچوں کی قربانیوں کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈی آئی خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ، 3 دہشتگرد ہلاک
عطا تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ کے لیے جو نامزدگی ہوئی ہے اس کے خلاف تحریک انصاف میں ہی آواز اٹھ رہی ہے، انہیں لانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی بزدلی کی وجہ سے دہشتگردوں کا ساتھ دیں، ریاست پاکستان قطعاً اجازت نہیں دے گی کہ اب کوئی بھی جماعت دہشتگردوں کا ساتھ دے، ریاست یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ دہشتگردوں کو شکست دیں گے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام میں دہشتگردوں کے خلاف بھرپور قربانیاں دی ہیں، آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کے نتیجے میں سب نے حصہ ڈالا اور دہشتگردی کو مات دی، دہشتگردوں کا کوئی مذب اور دین نہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، کلمے کے نام پر بننے والی ریاست کی مساجد پر حملہ آور ہونا اور شہریوں کو مارنا کسی صورت جائز نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: قوم کو بتایا جائے کون سے دہشتگرد کب اور کہاں بسائے گئے؟ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ خیبپختونخوا میں ‘تحریک انتشار’ نے دہشتگردوں کو واپس لے آیا۔ دہشتگردوں کی حمایت کا مقصد سمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کو فروغ دینا ہے، پی ٹی آئی حکومت میں ٹمبر اور ڈرگ مافیا بیٹھا ہے، صوبائی حکومت نے اس غیرقانونی کاروبار سے فائدہ اٹھایا۔ عوامی نیشنل پارٹی کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے قربانیاں دیں، دوسری طرف تحریک انصاف نے دہشتگردوں کا ساتھ دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے میں نیوٹرل ہونے کی گنجائش نہیں ہے، فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا خلاف۔ یہ تاثر بنتا جارہا ہے کہ ٹی ٹی پی تحریک انصاف کی عسکری ونگ بنتی جارہی ہے، تحریک انصاف اور دہشتگردوں کا مالی گٹھ جوڑ ہے اس لیے مافیا کے خلاف قدم نہیں اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی دہشتگردی کو فروغ دینے پر تلی ہوئی ہے، جیل میں بیٹھا ایک شکست خوردہ شخص اپنی ذات اور جماعت کی خاطر ملک کو قربان کرنا چاہتا ہے تو یہ نہیں ہوسکتا۔














