تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاجی مارچ کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جب مشتعل کارکنان نے پولیس وین پر قبضہ کر لیا اور ایک سرکاری بس پر بھی حملہ کر دیا۔
ٹی ایل پی کی جانب سے امریکی ایمبسی کے سامنے احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان کے بعد سے پنجاب، خصوصاً لاہور میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے مارچ کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، تاہم تحریک لبیک کے کارکنان نے جوابی طور پر پولیس پر حملے شروع کر دیے۔
TLP is a TERRORIST Organization!
BAN TLP! pic.twitter.com/F4mB9f4dSv
— I b r a h e e m (@Ibraheeeeem92) October 8, 2025
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو مبینہ طور پر کارکنان کو ’گھیراؤ‘ کرنے کی ہدایت دیتے سنا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:http://پولیس کا گھیراؤ اور ہتھیاروں کی موجودگی، کیا یہ پُر امن احتجاج ہے، معروف صحافی کا ٹی ایل پی کے مارچ پر تبصرہ
ایک اور ویڈیو میں تحریک لبیک کے کارکنان پولیس وین پر قبضہ کیے سڑکوں پر گشت کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ایک علیحدہ ویڈیو میں ڈنڈا بردار مظاہرین کو سرکاری بس پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
Saad Rizvi from container is instructing TLP workers to besiege the police officials and surround them from all sides and to not let them go. This is sheer terrorist against the state and taking law in the hands. The state must crackdown ruthlessly against these morons. pic.twitter.com/vdRn7oUZx1
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) October 11, 2025
تحریک لبیک کی احتجاجی کال کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی صورتِ حال معمول سے ہٹ چکی ہے۔
دارالحکومت کے اہم داخلی راستے سیل ہیں، دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے اور انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ شہریوں نے حکام سے امن و امان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔













