چپکے چپکے دل میں اترتا حسرتؔ

بدھ 13 مئی 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’کٹ گئی احتیاطِ عشق میں عمر
ہم سے اظہارِ مدعا نہ ہوا‘

جی ہاں! یہی وہ شعر تھا جو دل کی لگام تھامے مجھے بارگاہِ حسرتؔ میں لے گیا اور پھر واپسی نہ ہوئی۔ حسرت موہانی اردو شاعری کا وہ چراغ ہیں جس کی لو وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں ہوئی بلکہ اور نکھرتی گئی۔ محبت، انقلاب، تصوف اور حریتِ فکر کا ایسا حسین امتزاج اردو ادب میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

سید فضل الحسن، جنہیں دنیا حسرت موہانی کے نام سے جانتی ہے، 13 مئی 1951 کو لکھنؤ میں اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر اُن کے لفظ آج بھی زندہ ہیں، سانس لیتے ہیں اور دلوں میں اترتے ہیں۔

حسرت موہانی کی شاعری پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص زندگی کے تمام دکھ، تمام خواب اور تمام محبتیں اپنے دامن میں سمیٹے خود کلامی کر رہا ہو۔ اُن کے ہاں عشق صرف محبوب تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک تہذیب، ایک طرزِ احساس اور ایک اخلاقی وقار میں ڈھل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی غزلیں محض پڑھی نہیں جاتیں، محسوس کی جاتی ہیں۔

’چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘

اردو غزل کا ایسا استعارہ بن چکی ہے جس کے بغیر محبت کی ادبی تاریخ ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ اس غزل میں صرف ہجر کی داستان نہیں بلکہ یاد کی وہ نمی بھی ہے جو برسوں بعد بھی دل کے دریچوں پر قائم رہتی ہے۔ حسرت کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ پیچیدہ فلسفوں کے بغیر دل میں اتر جاتی ہے۔ اُن کے اشعار میں تصنع نہیں، ایک سادہ مگر گہری سچائی ہے۔

حسرت موہانی کی شخصیت صرف شاعر کی نہیں تھی۔ وہ ایک حریت پسند سیاسی کارکن، آزادی کے متوالے اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والے انسان بھی تھے۔ ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ برصغیر میں سب سے پہلے حسرت موہانی ہی نے بلند کیا۔ ایک طرف وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے اور دوسری طرف عشق و محبت کی ایسی غزلیں کہتے رہے جن میں نرم دُھوپ جیسی لطافت تھی۔ یہ تضاد نہیں، اُن کی شخصیت کا حسن تھا۔

’خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘

اُن کی شاعری میں محبوب کوئی دیومالائی کردار نہیں بلکہ جیتا جاگتا انسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے اشعار میں قربت کی خوشبو، جدائی کی چبھن اور ملاقات کی دھڑکن صاف سنائی دیتی ہے۔ وہ محبت کو رسوا نہیں کرتے بلکہ اُس کی آبرو بچاتے ہیں۔ شاید اسی لیے اُن کا یہ شعر آج بھی تہذیبِ محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے:

’دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
شیوۂ عشق نہیں حُسن کو رسوا کرنا‘

حسرت کی غزلوں میں لکھنؤ کی شائستگی بھی ہے اور دہلی کی سادگی بھی۔ اُن کے ہاں زبان کا بانکپن قاری کو متاثر کرتا ہے، مگر اصل تاثیر جذبے کی صداقت سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ محبوب کے ناز و انداز بیان کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی پرانی شام یادوں کے دریچے پر دستک دے رہی ہو۔

ڈاکٹر سید عبد اللہ نے کہا تھا کہ حسرت محبت کے خوشگوار ماحول کے بہترین، مقبول ترین اور مہذب ترین مصور اور ترجمان تھے، وہ خالص غزل کے شاعر تھے ان کے شعروں میں ہر اس شخص کے لیے اپیل ہے جو محبت کے جذبات سے متصف ہے۔

’سبھی کچھ ہو چکا ان کا ہمارا کیا رہا حسرتؔ
نہ دیں اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ تن اپنا‘

ڈاکٹر سید عبداللہ کہا کرتے تھے کہ حسرت کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے غزل کے قدیم و جدید رنگ کو باہم اسی طرح ملا دیا کہ ان کی غزل سے ہر رنگ اور ہر ذوق کا قاری متاثر ہوتا ہے۔

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام’
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

حیرت غرورِ حسن سے شوخی سے اضطراب
دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام

اللہ رے جسم یار کی خوبی کہ خودبخود
رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

دیکھو تو چشمِ یار کی جادو نگاہیاں
بے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام

نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں
شادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام

شیرینئ نسیم ہے سوز و گداز میرؔ
‘حسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطفِ سخن تمام

وقت گزرتا رہا، نسلیں بدلتی رہیں، مگر حسرت موہانی کے اشعار آج بھی مشاعروں، محفلوں اور دلوں میں اسی آب و تاب سے زندہ ہیں۔ شاید اس لیے کہ سچی شاعری کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ حسرت موہانی بھی اردو ادب کے اُن چند ناموں میں شامل ہیں جنہیں صرف پڑھا نہیں جاتا، جیا جاتا ہے۔

’نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp