امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں امن کی کرنیں نمودار ہو رہی ہیں۔ ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔
اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس امن کو ممکن بنانا آسان نہیں تھا، اور میں عرب و مسلم دنیا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا غزہ کے لیے امن منصوبہ، حماس نے ترمیم کا مطالبہ کردیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بعض اوقات ایسے ہتھیاروں کا مطالبہ کرتے تھے جن کا انہیں خود بھی علم نہ تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ تعاون اور دوستی کے دروازے بدستور کھلے ہیں، اور اس خطے میں پائیدار امن کی امید برقرار ہے۔
خطاب کے دوران پارلیمان میں شور شرابہ ہوا، جس پر چند ارکان کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج بندوقیں خاموش ہو چکی ہیں اور امن کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی اور طویل عرصے بعد یرغمالی اپنے گھروں کو لوٹ گئے، جو خوشی کا باعث ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ان کی انتظامیہ نے 8 بڑی جنگیں رکوائی ہیں، جن میں حالیہ جنگ بھی شامل ہے۔ امریکی فوج آج تاریخ کی سب سے زیادہ طاقتور پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے لیے ایک طویل اذیت کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب ان کی توجہ علاقے کی تعمیرِ نو پر مرکوز ہونی چاہیے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران پر حملے میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے مسلسل 37 گھنٹے پرواز کی اور 14 بم گرائے گئے، جس سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ ان کے بقول، اگر یہ کارروائی نہ کی جاتی تو جنگ بندی ممکن نہ ہوتی۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ دنیا نے جو کچھ آج دیکھا، وہ شاید صدیوں بعد ممکن ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ 500، کچھ کا کہنا ہے کہ 3 ہزار سال بعد اس خطے میں امن قائم ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب توجہ روس پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، اور ان کی انتظامیہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی کابینہ کیجانب سے صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے اقدامات کا خیر مقدم
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ وہ آج دنیا کے اہم اور بااثر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جنہوں نے اس امن معاہدے میں کردار ادا کیا۔ صدر ٹرمپ کے بقول آج ثابت ہو چکا ہے کہ امن صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے۔














