صدر زیلینسکی نے غزہ امن معاہدے کو یوکرین کے لیے امید کی کرن کیوں قرار دیا؟

پیر 13 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے پیر کے روز غزہ میں جنگ بندی کو ’غیر معمولی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے ملک پر روسی حملے کا خاتمہ بھی کروا سکتے ہیں۔

صدر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب دنیا کے ایک حصے میں امن قائم ہوتا ہے تو یہ دوسرے خطوں کے لیے بھی امن کی امید بڑھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین کی معدنیات اور امریکا، صدر زیلینسکی کیا چاہتے ہیں؟

’اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن قائم ہو گیا ہے تو عالمی رہنماؤں کی قیادت اور عزم یوکرین کے لیے بھی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے بڑا تنازعہ بن گیا۔

اس جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں، لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں اور یوکرین کے مشرقی و جنوبی علاقے تباہ ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ پیوٹن ملاقات: امن معاہدے پر پیشرفت، روس یوکرین جنگ بندی کا اعلان نہ ہوسکا

ادھر کریملن نے مغرب کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی جنگ ایک ’ڈرامائی موڑ‘ پر پہنچ گئی ہے جو مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ یہ جنگ چند گھنٹوں میں ختم کروا سکتے ہیں، تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ متعدد مذاکرات اور ایک سربراہی ملاقات کے باوجود امن معاہدے میں کوئی نمایاں پیشرفت نہیں ہوئی۔

روس نے جنگ بندی کی کئی اپیلوں کو مسترد کر دیا ہے اور اپنے سخت مؤقف پر قائم ہے، جس کے تحت وہ امن کے بدلے یوکرین سے عملی طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: صدر زیلینسکی نے الاسکا میں امریکی اجلاس کو پیوٹن کی ’ذاتی فتح‘ قرار دیدیا

گزشتہ ہفتوں میں امریکی صدر ٹرمپ روسی صدر پیوٹن سے بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہ چکے ہیں کہ وہ یوکرین کو روس کے قبضے سے ’ہر انچ‘ زمین واپس لیتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

فی الحال روسی فوج یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے، جس میں 2014 میں قبضے میں لیا گیا کریمیا کا علاقہ بھی شامل ہے۔

جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس نے بھی صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی میں دکھائی گئی قیادت کو یوکرین تنازعے میں بھی استعمال کریں۔

مزید پڑھیں: پیٹریاٹ میزائل کیا ہیں، اور یوکرین کو ان کی اتنی اشد ضرورت کیوں ہے؟

جرمن چانسلرنے مصر میں عالمی سربراہی اجلاس سے قبل کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امریکی صدر وہی اثر و رسوخ جو انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے فریقین پر استعمال کیا، اب روسی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے استعمال کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کے ساتھ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے تصفیے پر تفصیلی بات کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں رمضان: ثقافت، روحانیت اور یکجہتی کو سمجھنے کا بہترین موقع

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟