وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نےنومنتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں عدم شرکت کو افسوسناک قرار دیا ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت افغان پناہ گزینوں اور ان کی واپسی کے حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اجلاس میں بیٹھ کر بات چیت کرنے پر یقین نہیں رکھتے، جو کہ ایک افسوسناک رویہ ہے۔
وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کی مرحلہ وار واپسی اور اس سے متعلق سلامتی، انسانی ہمدردی اور انتظامی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اب تک 3 لاکھ افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر واپس جا چکے ہیں: قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
وفاقی وزیر کے مطابق، اجلاس میں تمام وزرائے اعلیٰ کو مدعو کیا گیا تھا تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، ان کی نمائندگی صوبائی حکومت کے نمائندے مزمل اسلم نے کی۔
عطا اللہ تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ صوبے کے امن و امان کے حوالے سے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی موجودگی ضروری تھی، لیکن بدقسمتی سے وہ شریک نہیں ہوئے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن پر جلد عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: افغان مہاجرین کے زیر انتظام اسکول سیل، اساتذہ و طلبا کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ غزہ اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے اور وزیراعظم نے ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں کی آواز بن کر کردار ادا کیا ہے۔
’اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری خارجہ پالیسی کامیابی کے راستے پر ہے، اور حالیہ دنوں میں پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔‘
عطا اللہ تارڑ کے مطابق، حکومت کے مثبت اقدامات کی بدولت سبز پاسپورٹ کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: افغان مہاجرین کے انخلا سے بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام نے ٹی ایل پی اور تحریک انصاف کی احتجاجی کالوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
’ملک بھر میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے، اور عوام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بے مقصد احتجاج اور سیاسی افراتفری نہیں چاہتے۔‘













