امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے روس سے تیل کی خریداری بند نہ کی تو اس پر عائد بھاری محصولات(Massive Tariffs) برقرار رہیں گے۔
ٹرمپ نے ائیر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات کی، انہوں نے کہا کہ وہ روسی تیل نہیں خریدیں گے۔ تاہم، بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں ایسی کسی گفتگو کا علم نہیں۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کیخلاف امریکا میں 2600 سے زائد مقامات پر ریلیاں اور احتجاج، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے، لیکن پھر وہ بھاری محصولات ادا کرتے رہیں گے، اور وہ ایسا نہیں چاہیں گے۔ روسی تیل پر امریکی اعتراضات روس یوکرین جنگ سے جڑے ہیں، کیونکہ تیل کی آمدنی سے روس اپنی جنگی مہم چلاتا ہے۔
بھارت روس سے سستا تیل خرید رہا ہے، اور اس وقت وہ روسی سمندری تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکا کے مطابق بھارت نے تیل کی درآمد آدھی کر دی ہے، لیکن بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی واضح کمی نظر نہیں آ رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں بھارت کی روسی تیل کی درآمد 20 فیصد بڑھ کر 1.9 ملین بیرل یومیہ ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں:منشیات امریکا اسمگل کرنے والی آبدوز تباہ، ٹرمپ کا 25000 امریکیوں کو موت سے بچانے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت اب روس سے تیل نہیں خریدے گا، جو ماسکو کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی عالمی کوششوں میں ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مودی کے سامنے روسی تیل کی درآمدات پر تشویش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی وزیرِاعظم نے انہیں جلد ہی ان خریداریوں کے خاتمے کا یقین دلایا۔














