عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی ترقی کے اندازوں میں بہتری لاتے ہوئے سال 2025 کے لیے شرحِ نمو 3.2 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے، جو کہ گزشتہ سال 2024 کی 2.1 فیصد شرحِ نمو سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
ادارے نے اس بہتری کی وجہ پاکستان کے مضبوط معاشی بنیادوں اور خطے میں مالی استحکام کو قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی معیشت کے لیے اچھی خبر، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا
یہ پیش گوئی آئی ایم ایف کی مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک آؤٹ لک رپورٹ 2025 میں شامل ہے، جس میں تیل برآمد کرنے اور درآمد کرنے والے دونوں ممالک کے لیے مجموعی معاشی امکانات میں بہتری دکھائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یہ بہتری ترسیلاتِ زر میں اضافے، توانائی کی قیمتوں میں کمی اور پائیدار معاشی اصلاحات کی بدولت ممکن ہوئی ہے جنہوں نے ملکی مالی صورتحال کو مستحکم کیا۔
آئی ایم ایف کے مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے رپورٹ میں کہا کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک نے پیداوار میں اضافے سے فائدہ اٹھایا ہے، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک اور پاکستان نے کم توانائی قیمتوں، مضبوط ترسیلاتِ زر اور فروغ پاتے سیاحت کے شعبے سے نمایاں فوائد حاصل کیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ 5 برسوں میں 4.5 فیصد کی جی ڈی پی شرح نمو تک پہنچ سکتی ہے، جو پائیدار معاشی بحالی کی علامت ہے۔
رپورٹ کے مطابق خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، البتہ 26-2025 میں توانائی سبسڈی کے خاتمے اور بجلی ٹیرف کے معمول پر آنے سے مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شرح نمو 4.3 فیصد تک جانے کی توقع، آئی ایم ایف کی پاکستانی معیشت کے حوالے سے مثبت پیش گوئیاں
آئی ایم ایف نے مزید کہاکہ ٹیکس اصلاحات اور توانائی قیمتوں میں ساختی تبدیلیوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور ریونیو کلیکشن کے نظام میں بہتری آئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں حالیہ سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات پڑنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی لچک اور جاری اصلاحاتی اقدامات نے اسے ابھرتی ہوئی منڈیوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے، اور اگر اصلاحات کا تسلسل برقرار رہا تو درمیانی مدت میں تیز تر اقتصادی ترقی ممکن ہو سکے گی۔














