امریکا اسرائیل کا نگراں نہیں، شراکت دار ہے، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس

بدھ 22 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل سے متعلق خدشات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کسی ’ننھے بچے کی نگرانی‘ کے لیے نہیں بلکہ موجودہ صورتِ حال پر نظر رکھنے کے لیے وہاں موجود ہے، کیونکہ ابھی بہت سا کام باقی ہے۔

ان کے اس بیان سے قبل حالیہ دنوں میں امریکی حکام کی اسرائیل آمد کا سلسلہ جاری ہے، جن میں جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سرمایہ کار جیرڈ کُشنر شامل ہیں، جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو جمعرات کو اسرائیل پہنچنے والے ہیں۔

اس تسلسل نے اسرائیلی میڈیا اور مبصرین کو یہ تاثر دینے پر مجبور کیا ہے کہ امریکا اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو براہِ راست کنٹرول کر رہا ہے یا ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا اسرائیل میں 200 فوجی اہلکار بھیجنے کا فیصلہ

بدھ کی صبح اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل باہمی شراکت دار ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کے تابع۔

امریکی نائب صدر نے وضاحت کی کہ امریکا کسی ماتحت ریاست کا خواہاں نہیں، اور اسرائیل ایسی ریاست نہیں ہے۔

’ہم کسی کلائنٹ ریاست کے خواہاں نہیں، اور اسرائیل وہ بھی نہیں ہے، ہم ایک شراکت داری چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی ’ہمارا معاملہ نہیں‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی اور اسرائیل کے دوروں کا مطلب ’یہ نہیں کہ آپ کسی ننھے بچے کی طرح نگرانی کریں۔ اس کا مطلب نگرانی اس معنی میں ہے کہ بہت سا کام باقی ہے۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ جب بات اسرائیل کی سلامتی کی ہو تو ہم وہی کرتے ہیں جو ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ امریکا اس خطے میں دیگر مفادات بھی رکھتا ہے، اور جہاں ہم اس کے لیے لچک دکھا سکتے ہیں، وہ اچھا ہے، کیونکہ ایک مضبوط امریکا ہمارے مفاد میں ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو نمائشی اقدام قرار دیدیا، اسرائیلی وزیراعظم بھی برہم

کئی موجودہ اور سابقہ اسرائیلی عہدہ داروں نے فلسطین پر قبضہ سنبھالنے والی فورس میں ترکیہ کو شامل کرنے کے امریکی منصوبے کی مخالفت ظاہر کی ہے کیونکہ ترکیہ ایران کا حلیف ہے۔

گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیل اور حماس نے فائرنگ کا تبادلہ کیا، اور اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ میں تقریباً 44 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، جن میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد شامل تھے جب ان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔

اسرائیل کے مطابق یہ ایک ایسے حملے کا ردِ عمل تھا جس میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ میں 2 ریاستی کانفرنس بحال کرنے کی منظوری، امریکا و اسرائیل کی مخالفت

جے ڈی وینس نے منگل کو میڈیا سے، وٹکوف اور کشنر کے ساتھ، اسرائیل میں نئے سول ملٹری کوآپریشن سینٹر سے امن معاہدے کے بارے میں بھی خطاب کیا۔

وینس نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے معاہدے کے ذریعے ایسی جگہ پہنچنا ممکن ہوگا، جہاں یہ امن برقرار رہے گا۔

’اگر حماس تعاون نہیں کرتی تو جیسا کہ امریکی صدر نے کہا ہے، حماس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے