اسموگ سے کاروبار زندگی متاثر ہوسکتا ہے، بچاؤ کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، مریم اورنگزیب

جمعرات 23 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ اس مرتبہ بھی اسموگ سے کاروبار زندگی متاثر ہوسکتا ہے لہٰذا ہم سب کو مل کر اس سے نمٹنا ہوگا،صوبے میں کاربن کریڈٹ پروگرام، گرین اسکول پروگرام اور شجرکاری مہم جیسے اقدامات جاری ہیں جن کے تحت شہریوں کو کاربن ٹریڈ آف کا موقع بھی فراہم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اینٹی اسموگ آپریشن کے باوجود لاہور آلودہ ترین شہر، ’یہ پنجاب حکومت کر کیا رہی ہے؟‘

مریم اورنگزیب نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسموگ کی اصل وجوہات کا خاتمہ کرنا ہوگا، حکومت نے اینٹوں کے بھٹے منتقل کرنے کے علاوہ دیگر عملی اقدامات کیے ہیں جن سے اسموگ پر قابو پایا جاسکے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت صوبے کی ایئر کوالٹی انڈیکس بہتر بنانے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کررہی ہے، ماحولیاتی آلودگی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کےم لیے حکومت نے صوبے بھر میں کثیر شعبہ جاتی اقدامات شروع کیے ہیں جن میں مانیٹرنگ، قانون نافذ کرنے، عوامی آگاہی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی بار پلاسٹک بیگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کاربن کریڈٹ پروگرام، گرین اسکول پروگرام اور شجرکاری مہم جیسے اقدامات جاری ہیں جن کے تحت شہریوں کو کاربن ٹریڈ آف کا موقع بھی فراہم کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: یکم اکتوبر کو پنجاب میں فضائی معیار معتدل، اسموگ سے بچاؤ کے انتظامات جاری

سینیئر وزیر نے کہا کہ لاہور کو شہباز شریف کے دور میں اسمارٹ سٹی کے طور پر بنایا گیا تھا اور اب تمام گاڑیوں کے دھوئیں اور فضائی آلودگی کی مانیٹرنگ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تھرمل کیمروں سے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق صنعتوں کی چمنیوں پر ماحولیاتی کنٹرول سسٹم نصب کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مرکزی کنٹرول روم تک پہنچتا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں اسموگ وار روم قائم کیا گیا ہے جو ڈیجیٹل ڈیٹا، فضائی معیار (AQI) اور مختلف اضلاع کی نگرانی کرتا ہے، اور پورے مہینے کا فضائی معیار پیش گوئی کے طور پر بتایا جا سکتا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب کی ماحولیاتی پروٹیکشن فورس میں پہلی مرتبہ 45 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ لاہوری علاقوں میں دھول، کنسٹرکشن سائٹس اور گاڑیوں کی آلودگی پر قابو پانے کے لیے واٹر اسپرنکلرز اور فَـاگ کینن استعمال کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ریکارڈ بجٹ مختص‘، مریم اورنگزیب کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسی بنا سکتی ہے، آگاہی اور ٹیکنالوجی فراہم کر سکتی ہے، مگر جب تک عوام خود اپنے رویے نہیں بدلیں گے، اسموگ اور آلودگی ختم نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے معاشرتی تبدیلی سب سے ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسداد اسموگ کے لیے قوانین سخت کیے گئے ہیں، جرمانوں میں اضافہ ہوا ہے اور مانیٹرنگ جدید ٹیکنالوجی سے کی جارہی ہے، مگر اصل تبدیلی شہریوں، صنعتکاروں، کسانوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے رویوں سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ و طالبات ماحولیاتی استحکام کے سفیر بنیں اور اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول دوست فیصلے کریں، کیونکہ یہی رویے مستقبل میں لاہور اور پنجاب کی فضا کو صاف بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ کے 5 لاکھ افراد کا طبی ڈیٹا لیک، چینی ویب سائٹ پر فروخت کے لیے پیش

وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی نے کیسے لاکھوں ڈالرز کمائے؟

’یہ خود کو جان بوجھ کر مظلوم ظاہر کرتے ہیں‘، امریکی گلوکار کی امریکی صیہونیوں پر شدید تنقید

پاکستان نے یو اے ای کے 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مکمل واپس کر دیے

برطانیہ اور فرانس کی آبنائے ہرمز سیکیورٹی منصوبے پر پیشرفت، 44 ممالک لندن مذاکرات میں شریک

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار