پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ فرنچائز کے مالک علی ترین نے پی سی بی کی جانب سے موصول ہونے والا لیگل نوٹس پھاڑ کر ردِ عمل ظاہر کیا، جبکہ ملتان سلطانز کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ علی ترین کے بیانات لیگ کی بہتری کے لیے تھے، نہ کہ کسی منفی مہم کا حصہ۔
علی ترین نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا کہ پی سی بی نے انہیں ایک لیگل نوٹس بھیجا، جس میں ان سے تنقیدی بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا، بصورتِ دیگر فرنچائز معاہدہ منسوخ اور انہیں بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دی گئی۔
مزید پڑھیں:پی سی بی کی جانب سے پابندی پر ملتان سلطانز کا مؤقف سامنے آگیا
انہوں نے واضح کیا کہ وہ دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں دباؤ میں آ جاؤں گا، تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ پی ایس ایل سے محبت ہے، لیکن اصلاحات کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
علی ترین نے ذو معنی انداز میں ’معافی‘ مانگتے ہوئے کہا کہ اگر پی ایس ایل میں قابل انتظامیہ کا مطالبہ کرنا جرم ہے، تو وہ اس کے لیے ’معذرت خواہ‘ ہیں۔
The PSL Management has sent me a notice threatening to cancel Multan Sultans unless I offer them a public apology. Hazir Saeen. pic.twitter.com/yHWCcClXaD
— Ali Khan Tareen (@aliktareen) October 23, 2025
دوسری جانب، پی سی بی کا مؤقف ہے کہ علی ترین کے بار بار عوامی سطح پر بیانات سے لیگ کی ساکھ متاثر ہوئی اور معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی ہوئی۔ بورڈ نے باقاعدہ معطلی کا نوٹس جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پی ایس ایل کے پیشہ ورانہ معیار اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
اس کے جواب میں، ملتان سلطانز کے ترجمان نے بیان دیا کہ پی سی بی نے تعمیری تنقید کو جرم سمجھ لیا ہے۔ علی ترین کے تمام بیانات پی ایس ایل کی بہتری کے لیے تھے، لیکن پی سی بی اختلافِ رائے برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
مزید پڑھیں:پی سی بی نے ملتان سلطانز کو معطل کردیا، آئندہ سیزن میں شرکت خطرے میں، سبب کیا بنا؟
فرنچائز کے مطابق، انہیں موصول ہونے والا نوٹس محض انتباہی نوعیت کا تھا، تاہم اس میں معاہدہ ختم کرنے اور علی ترین کو مستقبل میں کسی بھی ٹیم کی ملکیت سے روکنے کی دھمکیاں شامل تھیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ایس ایل میں فرنچائزز اور بورڈ کے تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں، اور کئی اسٹیک ہولڈرز شفافیت اور منصفانہ رویے کے مطالبے کر رہے ہیں۔













