یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے شاہ چارلس سے ملاقات کی ہے، یہ ملاقات جمعے کو یورپی ممالک کے ہونے والے سیاسی سربراہی اجلاس سے قبل ہوئی۔
اس موقع پر یوکرینی صدر کو شاہی سلامی پیش کی گئی اور انہیں گارڈ آف آنر بھی دیا گیا،بعد ازاں بادشاہ نے صدر زیلنسکی کا تعارف میجر جنرل جیمز باوڈر اور ایکوئری لیفٹیننٹ کرنل جونی تھامسن سے کرایا۔ دونوں رہنما قلعے کے اندر نجی ملاقات کے لیے داخل ہوئے۔ یہ زیلنسکی کا برطانیہ میں پہلا شاہی استقبال اور بادشاہ سے تیسری باضابطہ ملاقات تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ چارلس کا وہ عمل جو 500 برسوں میں کسی برطانوی فرمانروا نے نہیں کیا!
ونڈزر کی یہ دعوت ایسے موقع پر دی گئی جب زیلنسکی یورپی ممالک کے دورے پر ہیں تاکہ اپنی دفاعی کوششوں کے لیے مزید فنڈز اور ہتھیار حاصل کرسکیں۔
جمعے کو ہونے والے کولیشن آف دی ولینگ اجلاس میں نیٹو سیکریٹری جنرل مارک رٹے، ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون بھی شریک ہوں گے۔

بادشاہ چارلس 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے آغاز سے یوکرین کی حمایت میں واضح موقف رکھتے ہیں۔ وہ متعدد تقریبات اور بین الاقوامی دوروں میں یوکرینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرینی صدر کی 5 ماہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں دوسری ملاقات، اس بار کیا ہوا؟
گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک ضیافت میں بادشاہ نے کہا تھا کہ یورپ ایک بار پھر جبر کے خطرے سے دوچار ہے اور ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ یوکرین کی حمایت میں کھڑے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سینڈرنگھم میں رواں سال مارچ میں بادشاہ کی زیلنسکی سے ملاقات کو ذاتی سطح پر اظہارِ حمایت قرار دیا گیا تھا، جو امریکی دورے کے بعد صدر زیلنسکی کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے بعد ازاں یوکرین کی کامیابی کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا اور روسی آئل کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کیں تاکہ ماسکو کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جاسکے۔
اجلاس میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر طویل فاصلے کے ہتھیاروں کی فراہمی اور یوکرین کے لیے 100 اضافی ایئر ڈیفنس میزائلز کی تیز تر ترسیل کا اعلان کریں گے۔













