ترکیہ کے مغربی ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 17 افراد ہلاک

ہفتہ 25 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کے مغربی صوبے موغلا کے ساحل کے قریب جمعے کے روز تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک ربڑ کی کشتی ڈوبنے سے کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے۔

موغلا کے گورنر آفس کے مطابق ممکنہ طور پر مزید افراد کے زندہ بچنے کی امید میں تلاش اور بچاؤ کا آپریشن جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اٹلی: کشتی کے ڈوبنے سے کم از کم 26 غیر قانونی تارکین وطن ہلاک، مزید کی تلاش جاری

گورنر آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک افغان شخص جو حادثے میں زندہ بچ گیا تھا، تیرتے ہوئے ساحل تک پہنچا اور صبح تقریباً ایک بجے حکام کو اطلاع دی۔

افغان شہری نے ریسکیو ٹیم کو بتایا کہ 18 افراد ربڑ کی کشتی پر سوار تھے، تاہم روانگی کے کچھ ہی دیر بعد کشتی میں پانی بھر گیا اور وہ ڈوب گئی۔

ریسکیو ٹیموں نے بعد ازاں بدروم کے قریب چیلیبی جزیرے سے ایک اور زندہ شخص کو تلاش کیا، جبکہ 17 لاشیں سمندر سے نکالی گئیں۔

گورنر آفس کے مطابق، 4 کوسٹ گارڈ کشتیاں، ایک خصوصی غوطہ خور ٹیم اور ایک ہیلی کاپٹر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیں: 2024، یورپ پہنچنے کا خواب کتنی ہزار زندگیاں نگل گیا؟

ایجیئن سمندر اکثر ان ہزاروں تارکینِ وطن کے لیے گزرگاہ بنتا ہے جو شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر ترکیہ سے، جو شام، عراق اور افغانستان کے لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

ترک ادارہ برائے انتظامِ ہجرت کے مطابق، 2019 میں ترکیہ میں گرفتار کیے گئے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 55 ہزار تھی، جن میں زیادہ تر کا تعلق افغانستان اور شام سے تھا۔

اس سال 16 اکتوبر 2025 تک ترکیہ میں 1 لاکھ 22 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا