پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر نے اپنے منحرف اراکین اسمبلی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے اراکین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے، جبکہ صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر سردار عبد القیوم نیازی نے اپنی لیگل ٹیم کو ریفرنس کی تیاری کی باضابطہ ہدایت جاری کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں حکومت سازی فیصلہ کن مرحلے میں داخل، نئے وزیرِاعظم کا اعلان آج متوقع
ذرائع نے مزید بتایا کہ سردار عبد القیوم نیازی نے قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ فاروق احمد اور دیگر سینیئر رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن ایکٹ 2020 کے تحت کوئی بھی رکنِ اسمبلی اگر اپنی پارٹی چھوڑے تو وہ نااہلی کی کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ فارورڈ بلاک کے 12 اراکین اسمبلی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ظفر ملک، عبدالماجد، اکبر ابراہیم، یاسر سلطان سمیت کئی منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس مکمل تیار ہے۔ اس فہرست میں چوہدری اخلاق، چوہدری رشید، چوہدری ارشد، فہیم ربانی، محمد حسین اور دیگر اراکین کے نام بھی شامل ہیں۔
پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آزاد ہیں، ان پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا، راجا کفیل
آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی راجا کفیل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی میں نئے شامل ہونے والے ممبران اسمبلی پر پارٹی ڈسپلن کا قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ عام انتخابات 2021 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب امیدواروں کو بعد ازاں ہائیکورٹ کے فیصلے میں آزاد قرار دیا گیا تھا۔
راجا کفیل نے کہاکہ عدالت نے پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کردی تھی، جس کے بعد ابھی تک پی ٹی آئی الیکشن کمیشن میں دوبارہ رجسٹرڈ ہی نہیں ہو سکی، پیپلزپارٹی میں شامل تمام ممبران آزاد ہیں، ان پر پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: نمبر گیم پوری ہے تو عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے؟ وزیراعظم آزاد کشمیر انوارالحق کا مخالفین کو پیغام
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے نمبر پورے کرلیے ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن نے بھی تحریک کی کامیابی میں ووٹ دینے کا اعلان کردیا ہے۔
اگر وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق استعفیٰ نہیں دیتے تو کسی بھی وقت تحریک عدم اعتماد پیش کردی جائےگی۔














