ناسا کے نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، جب ماہرین نے بین النجومی دمدار ستارے کومٹ اٹلس3 آئی میں ہائیڈروکسل (OH) گیس دریافت کی، جو پانی کی کیمیائی شناخت سمجھی جاتی ہے۔ یہ دمدار ستارہ زمین کے مقابلے میں سورج سے تقریباً 3 گنا زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دمدار ستارہ اٹلس تھری آئی سورج کے قریب پہنچنے والا ہے، انکشاف
آبرن یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ دریافت بتاتی ہے کہ دمدار ستارے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر کس طرح ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔
کومٹ اٹلس3 آئی ایک جولائی 2025 کو دریافت ہوا تھا اور یہ اب تک دریافت ہونے والے صرف تین بین النجومی دمدار ستاروں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی عمر تقریباً 7 ارب سال ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ کسی دوسرے ستارے کے نظام میں تشکیل پایا اور بعد ازاں ہمارے نظامِ شمسی میں داخل ہوا۔
سوئفٹ آبزرویٹری نے ایک مدھم الٹرا وائلٹ چمک کی نشاندہی کی، جو زمین سے دیکھنا ممکن نہیں، جس سے ظاہر ہوا کہ یہ دمدار ستارہ ہر سیکنڈ تقریباً 40 کلوگرام پانی خارج کر رہا ہے، جو سورج سے اس فاصلے پر غیر معمولی رفتار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کہکشاں کے مرکز سے پراسرار روشنی کے اخراج نے ماہرینِ فلکیات کو حیران کردیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی اس دمدار ستارے کے مرکز سے خارج ہونے والے برفیلے ذرات کو گرم کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں گیس اور بخارات خارج ہو رہے ہیں۔
یہ دریافت سائنس دانوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ بین النجومی دمدار ستاروں کا مطالعہ اسی طریقے سے کرسکیں، جس طرح وہ نظامِ شمسی کے دمدار ستاروں کا کرتے ہیں تاکہ کہکشاں میں سیاروں کی تشکیل کی کیمیائی ساخت کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔
تحقیق کی سربراہ زیکسی ژنگ کے مطابق ہر بین النجومی دمدار ستارہ اب تک ایک نیا انکشاف ثابت ہوا ہے۔ کومٹ کومٹ اٹلس3ون ایسے فاصلے پر پانی خارج کررہا ہے جس کی توقع سائنس دانوں نے نہیں کی تھی، اور یہ دریافت سیاروں اور دمدار ستاروں کی تشکیل سے متعلق موجودہ علم کو ایک نئی سمت دے رہی ہے۔













