امریکی فوج نے کیریبین میں ایک کشتی پر حملہ کیا ہے، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق مذکورہ حملے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر، محکمہ جنگ نے ایک کشتی پر مہلک حملہ کیا جو ایک نامزد دہشت گرد تنظیم کے زیر انتظام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑا کیریبین روانہ، منشیات بردار کشتیوں کیخلاف کارروائیاں تیز
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فورسز اس حملے میں محفوظ رہیں۔’یہ کشتی بحیرہ کیریبین میں منشیات کی اسمگلنگ کر رہا تھی جسے بین الاقوامی پانیوں میں نشانہ بنایا گیا۔‘
The US military killed three men in a strike on a suspected drug vessel in international waters in the Caribbean on November 6, US Defense Secretary Pete Hegseth said https://t.co/MD05bjTXEq
— Reuters (@Reuters) November 7, 2025
امریکی فوج نے اب تک 17 حملوں میں 70 افراد کو ہلاک کیا ہے اور 18 کشتیوں کو تباہ کیا ہے، جسے واشنگٹن منشیات کی اسمگلنگ کے امریکی منڈی میں داخلے کو روکنے کے لیے اپنی مہم کا حصہ قرار دیتا ہے۔
ان حملوں میں 3 افراد زندہ بچ گئے، جن میں سے 2 کو امریکی بحریہ نے عارضی طور پر حراست میں لیا تھا۔
مزید پڑھیں: منشیات امریکا اسمگل کرنے والی آبدوز تباہ، ٹرمپ کا 25000 امریکیوں کو موت سے بچانے کا دعویٰ
بعد میں انہیں ان کے ممالک واپس بھیج دیا گیا، تیسرے فرد کو مردہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ میکسیکو کی بحریہ نے ان کی نعش کی تلاش کی تھی۔
جبکہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے لیے بغیر عدالتی جائزے کے مہلک حملے کرنے کا اختیار حاصل ہے، جس کا جواز ایک خفیہ وزارت انصاف کی رپورٹ سے ملتا ہے۔

کانگریس کے کچھ ارکان اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اس رپورٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ منشیات کے اسمگلروں کو مقدمہ چلایا جانا چاہیے، جیسا کہ اس سے پہلے امریکی پالیسی تھی جب تک صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک یہ عوامی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں منشیات موجود تھیں یا ان کا منشیات کے کارٹلز سے تعلق تھا۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے آنے والی کشتی پر حملے، 11 منشیات فروشوں کی ہلاکت کا دعویٰ
ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو منشیات کی اسمگلنگ سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اس نے دارالحکومت کے قریب ایک بڑی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے، حالانکہ وینزویلا امریکا کی منشیات کی مارکیٹ کے لیے اہم کوکین فراہم کنندہ کے طور پر نہیں جانا جاتا۔
انتظامیہ کے عہدیداروں نے گزشتہ روز قانون سازوں کو بتایا کہ امریکا اس وقت وینزویلا میں حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی بھی زمینی ہدف کے خلاف حملے کے لیے قانونی جواز موجود ہے۔













