انڈونیشیا کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم نہضت العلما (Nahdlatul Ulama) نے اپنے چیئرمین یحییٰ چولل اسٹاقوف سے 3 دن کے اندر استعفیٰ دینے کو کہا ہے۔
یہ مطالبہ اسٹاقوف کی طرف سے سابق امریکی اہلکار اور اسرائیل کے حمایتی اسکالر پیٹر برکویٹز کو اگست میں ہونے والے ایک تربیتی پروگرام میں مدعو کرنے کے بعد سامنے آیا۔
Indonesia’s biggest Islamic organisation, Nahdlatul Ulama, has called on its chairman to resign for inviting a US scholar known for his staunch support of Israel to an internal event earlier this year, according to Reuters and local publications https://t.co/rXezgcQ78y pic.twitter.com/CbUuZztPeW
— Al Jazeera English (@AJEnglish) November 22, 2025
نہضت العلما کی قیادت نے اسٹاقوف کے خلاف الزامات عائد کیے کہ انہوں نے بین الاقوامی صہیونیت نیٹ ورک سے وابستہ شخص کو پروگرام میں مدعو کیا اور مالی بدانتظامی کی گئی۔
اس حوالے سے اسٹاقوف نے تنظیم سے معافی طلب کی ہے اور کہا کہ وہ دعوت دینے کے وقت برکویٹز کی سابقہ سرگرمیوں کو غور سے نہیں دیکھ پائے، ساتھ ہی انہوں نے غزہ میں اسرائیل کے ’ظالمانہ نسل کشی کے اعمال‘ کی مذمت کی۔
چیئرمین کی مخالفت اور مؤقف
اسٹاقوف نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ 5 سالہ مدت کے لیے منتخب ہوئے ہیں اور استعفیٰ نہیں دیں گے، کیونکہ انہیں ہٹانے کا اختیار اجلاس میں شامل رہنماؤں کے پاس نہیں ہے۔

انڈونیشیا جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے، نے 2023 میں شروع ہونے والی غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل کے اقدامات کی باقاعدگی سے مذمت کی ہے اور فلسطینی ریاست کے حل کی حمایت کی ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں رکھتا۔














