ہانگ کانگ میں 2 روز قبل ایک بڑے رہائشی کمپلیکس میں رونما ہونیوالی ہولناک آتشزدگی میں 60 سے زائد شہری جان کی بازی ہار گئے۔
اس انسانی المیہ کے بعد بانس کی اسکیفولڈنگ اور اس پر استعمال ہونے والے آتش گیر مواد کے حوالے سے سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ آتشزدگی، 65 ہلاک، 300 لاپتا، 2 مشتبہ افراد گرفتار
یہ آگ ایک رہائشی کمپلیکس کے گرد لگی اسکیفولڈنگ کی سبز جالی تک تیزی سے پھیل گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 55 افراد ہلاک اور تقریباً 300 لاپتہ ہوگئے۔
Hong Kong fire may speed up moves to end use of iconic bamboo scaffoldinghttps://t.co/KTGzshMwfo pic.twitter.com/KzVSDGhAn1
— The Washington Times (@WashTimes) November 28, 2025
آگ لگنے کی وجہ تاحال زیرِ تفتیش ہے، تاہم ابتدائی تفتیش اسکیفولڈنگ کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
بانس کے ڈنڈوں پر مشتمل اس اسکیفولڈنگ میں استعمال ہونے والی کچھ حفاظتی جالیاں اور پلاسٹک شیٹس ممکنہ طور پر فائر سیفٹی معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔
مزید پڑھیں: طاقتور ترین ’سائیکلون رگا سا‘ کے بعد ہانگ کانگ میں زندگی معمول پر آنا شروع
بانس کی اسکیفولڈنگ ہانگ کانگ کی روایتی تعمیراتی تکنیک ہے، جو کم قیمت اور لچک کے باعث مقبول ہے۔
تاہم چین کے دیگر حصوں میں اسے بڑی حد تک مضبوط دھاتی اسکیفولڈنگ نے تبدیل کر دیا ہے۔

اس کے باوجود ہانگ کانگ میں اب بھی تقریباً 2,500 ماہر بانس اسکیفولڈنگ کاریگر موجود ہیں، جب کہ دھات اسکیفولڈرز کی تعداد اس سے 3 گنا ہے۔
وانگ فُک کورٹ ہاؤسنگ کمپلیکس میں بھی یہی بانس اسکیفولڈنگ اور سبز جالی استعمال کی گئی تھی، جس نے آگ کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا۔
واقعے کے بعد ہانگ کانگ حکومت نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور جاری تعمیراتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے اسکیفولڈنگ مواد کے فائر سیفٹی معیار کی جانچ بھی شروع کر دی ہے۔
ٹھیکیدار کمپنی پریسٹیج کنسٹرکشن اینڈ انجینیئرنگ کے دو2 ڈائریکٹرز اور ایک کنسلٹنٹ کو غیر محفوظ مواد کے استعمال پر غیر ارادی قتل کے الزامات پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ نئے عوامی ترقیاتی منصوبوں میں سے 50 فیصد میں میٹل اسکیفولڈنگ لازمی ہوگی، جس کا بنیادی مقصد مزدوروں کا تحفظ تھا، نہ کہ آگ کے خطرات۔
تاہم حالیہ واقعات کے بعد چیف ایگزیکٹو نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل میں دھاتی اسکیفولڈنگ کے مکمل نفاذ اور بانس کی بتدریج مرحلہ وار ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اکتوبر 2023 میں چینا کیم ٹاور کی آگ بھی بانس اسکیفولڈنگ کے خطرات کو نمایاں کر چکی ہے۔
ماہرین نے متعدد ہاؤسنگ کمپلیکسز میں اسی نوعیت کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے اسکیفولڈنگ کی جالیوں کے بہتر معیارات پر زور دیا ہے۔
تعمیراتی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹل اسکیفولڈنگ کم قابلِ اشتعال ضرور ہے، مگر مناسب تعمیراتی طریقہ کار اپنائے جائیں تو بانس کی اسکیفولڈنگ کے خطرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔













