ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر مشاورت جاری ہے اور دونوں ممالک اس کا باہمی حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔
یو اے ای ویزوں سے متعلق وضاحت
ترجمان نے متحدہ عرب امارات سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای نے پاکستان کے حوالے سے نہ کوئی نئی پابندی عائد کی ہے اور نہ ہی کوئی نئی قانون سازی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم دہشتگردی پر پردہ ڈال رہی ہے، ترجمان دفتر خارجہ
پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے بھی ایسی تمام خبروں کو غلط قرار دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو ممکنہ طور پر پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر بریفنگ دی گئی ہو۔
بھارت کے بیانات اور سندھ طاس معاہدہ
ترجمان نے بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ متنازعہ بیان کو نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان عالمی قوانین کی پاسداری سے متعلق اداروں میں الارم کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ قیام پاکستان میں پہلا صوبہ تھا جس نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا، لہٰذا بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنا چاہیے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت آبی ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا جو نہایت افسوسناک ہے، جب کہ بھارت کے یہ رجحانات پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پاکستان اس معاملے کو مسلسل فالو اپ کر رہا ہے اور ویانا میں غیر جانبدار ماہرین کے اجلاس میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا۔
افغان مہاجرین کی آبادکاری میں تاخیر
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو تیسرے ممالک میں آباد ہونے کے منتظر افغان شہریوں کی روانگی میں غیر ضروری تاخیر پر شدید تحفظات ہیں۔ جو ممالک افغان مہاجرین کی آبادکاری کا وعدہ کر چکے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ان افغان شہریوں کو فوری طور پر پاکستان سے منتقل کریں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان کشیدگی: پاکستانی وفد کے افغان طالبان سے دوحہ میں مذاکرات آج ہوں گے، دفتر خارجہ
انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے بعد ان ممالک نے وسیع پیمانے پر پاکستان سے درخواستیں کی تھیں اور اب انہی درخواستوں کے حامل شہری پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پاکستان افغان مہاجرین کے حوالے سے تین درجات پر مشتمل پالیسی پر عمل کر رہا ہے اور ادارے پوری طرح مستعد ہیں۔
داعش سے متعلق الزامات
ترجمان نے کہا کہ داعش افغانستان میں موجود ہے اور اسی ملک میں اس کی تشکیل نو ہو رہی ہے۔ پاکستان میں داعش کی موجودگی کے افغان الزامات بے بنیاد ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ترجمان نے ڈاکٹر علی لاریجانی کے بلینک چیک والے بیان کا بھی خیرمقدم کیا۔
سعودی ثالثی کی رپورٹس
ترجمان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی کی کوئی ٹھوس پیشکش پاکستان کے علم میں نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس ضرور موجود ہیں لیکن ان کی کوئی سرکاری بنیاد نہیں۔ پاکستان ایسی کسی بھی پختہ پیشکش کا خیرمقدم کرے گا۔

پاک افغان جنگ بندی
ترجمان نے پاک افغان جنگ بندی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایتی معنی والی جنگ بندی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے گروہ پاکستان پر حملے نہ کریں۔
تاہم پاکستان میں حالیہ بڑے حملے ثابت کرتے ہیں کہ اس جنگ بندی کا احترام نہیں کیا جا رہا اور افغان گروہ پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں۔ اسی وجہ سے جنگ بندی کے حوالے سے زیادہ خوش فہمی نہیں رکھی جا سکتی، البتہ پاکستان کی عسکری تیاری مضبوط ہے۔
واشنگٹن حملے کی مذمت
دفتر خارجہ نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک افغان شہری کی جانب سے مبینہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان نے نیشنل گارڈ اہلکار کی ہلاکت پر امریکی حکومت اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغان دہشتگرد رحمان اللہ لکنوال امریکا کیسے پہنچا؟
ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کا واضح واقعہ ہے، اور پاکستان خود گزشتہ دو دہائیوں میں اسی نوعیت کی سرحد پار دہشتگردی کا سامنا کر چکا ہے۔ اس حملے نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کیا ہے اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ای سی او وزارتی اجلاس
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 29 ویں ای سی او وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں ورچوئل شرکت کی، جس میں علاقائی رابطہ، تجارت، نقل و حمل، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان آئندہ سال 30 ویں ای سی او اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
فیک نیوز اور بھارتی سائبر مہم
ترجمان نے سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی فیک نیوز کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سائبر ڈومین پاکستان کے خلاف مختلف شعبوں میں جعلی مہم چلا رہا ہے۔ اب افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی اس مہم کا حصہ بن رہے ہیں، جب کہ متعدد بھارتی صحافی اور مین اسٹریم ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق بھی کوئی ہدایات یا درخواست پاکستان کو موصول نہیں ہوئیں۔













