شمالی کوریا نے ابتدائی جماعت سے بچوں کے لیے روسی زبان کو لازمی مضمون قرار دیا ہے، جب کہ دونوں ممالک مغربی دنیا سے دوری کے باوجود تعلقات کو مضبوط کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:2040 تک شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار 400 سے تجاوز کر سکتے ہیں، ماہر کی پیشگوئی
روس کے وزیر قدرتی وسائل اور ماحولیات الیگزینڈر کوزلوف کا کہنا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ شمالی کوریا کے اسکولوں میں چوتھی جماعت سے روسی زبان لازمی طور پر پڑھائی جا رہی ہے۔

کوزلوف کے مطابق روسی زبان شمالی کوریا میں سب سے مقبول غیر ملکی زبانوں میں شامل ہے، اور تقریباً 600 طلبہ اس وقت اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ پچھلے تعلیمی سال میں 96 شمالی کوریائی طلبہ روسی یونیورسٹیوں میں داخل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرائن کیخلاف روس کا ساتھ دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے اعزازات
روسی سفارتخانے نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریائی یونیورسٹیوں میں روسی زبان کی تعلیم کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔ 2 پشکن انسٹ ٹیوٹ کے اساتذہ 1-2 ماہ کے پروگرام کے تحت پیانگ یانگ میں ایک ماہ سے روسی زبان اور ثقافت کی کلاسیں دے رہے ہیں، جس میں تقریباً 250 طلبہ شامل ہیں۔
کوزلوف نے مزید بتایا کہ روس میں 3,000 سے زائد طلبہ دوسری یا تیسری زبان کے طور پر کورین سیکھ رہے ہیں، جبکہ تقریباً 300 یونیورسٹی طلبہ کورین زبان کا مطالعہ کر رہے ہیں۔












