تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت کے حالیہ واقعے کے بعد دوشنبے میں قائم چینی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر سرحدی علاقوں سے نکل جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان سرزمین سے تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملہ، پاکستان کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار
تاجک حکام کے مطابق 26 نومبر کی شب افغانستان کی جانب سے تاجکستان کی سرحدی پٹی پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 چینی شہری مارے گئے۔
چینی سفارتخانے نے اپنی ایک اعلامیے میں بتایا کہ یہ حملہ تاجکستان کے جنوب مغربی حصے صوبہ ختلان میں بدھ کی شام پیش آیا جہاں 3 چینی شہری جان سے گئے اور ایک زخمی ہوا۔
مزید پڑھیے: افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک
صورتحال کے پیش نظر سفارتخانے نے تمام چینی باشندوں کو سرحدی خطے سے دور رہنے اور فوری انخلا کی ہدایت کی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چین نے تاجک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ، نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ افغان حملہ آور گرفتار
سفارتخانے نے اپنے بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ حملے کے پیچھے کون سی قوت یا گروہ ملوث ہو سکتا ہے جبکہ افغان طالبان رجیم نے بھی ابھی تک اس واقعے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔














