مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں جمعرات کی شب اسرائیلی اہلکاروں کی کارروائی کے دوران پیش آنے والا واقعہ ایک ویڈیو میں ریکارڈ ہو گیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے 2 فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے چند سیکنڈ بعد ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
اس واقعے کی اسرائیلی وزارتِ انصاف نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم اسرائیل کے دائیں بازو کے وزیر ایتامار بن گویر نے اسے پہلے ہی دفاع دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو مرنا ہی چاہیے۔ اس واقعے کے عینی شاہد صحافی بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، اسرائیلی حملے میں کمانڈر کی شہادت پر حزب اللہ کا سخت ردعمل
اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ جنین کے قریب مشترکہ فوجی اور بارڈر پولیس آپریشن کے دوران 2 افراد کو گولی ماری گئی۔ فوج کے مطابق معاملہ کمانڈرز کی سطح پر زیرِ جائزہ ہے اور اسے متعلقہ اداروں کو بھیجا جائے گا۔
فلسطینی اسلامی جہاد نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ہلاک شدگان اس کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز کے کارکن تھے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکاروں نے ایک گیراج نما عمارت کا دروازہ کھولنے کے لیے مکینیکل ڈگر کا استعمال کیا، جس کے بعد دو افراد ہاتھ اٹھائے، گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے باہر آئے اور غیر مسلح ہونے کا ثبوت دیا۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ: اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید، حماس کی ثالثوں سے مداخلت کی اپیل
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بارڈر پولیس کی خصوصی فورس ’یماس‘ کے اہلکار موقع پر موجود تھے۔ ایک افسر کو ویڈیو میں حراست میں لیے گئے افراد کو ٹھوکریں مارتے اور پھر انہیں دوبارہ عمارت کے اندر جانے کا حکم دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ چند لمحوں بعد پانچ اہلکار بندوقیں تانتے ہیں اور دونوں فلسطینی فائرنگ سے موقع پر ہی گر پڑتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے واقعے کو بے رحمانہ قتل قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ اسرائیلی تنظیم بیتسلیم کی ڈائریکٹر یولی نوواک نے کہا کہ یہ واقعہ فلسطینیوں کی انسانیت سے محرومی اور جوابدہی کے خاتمے کی واضح مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر اسرائیل کا مغربی کنارے کو قبضے میں لینے پر غور
القدس بریگیڈز نے ہلاک شدگان کی شناخت 37 سالہ یوسف اساسا اور 26 سالہ محمود عبداللہ کے طور پر کی ہے اور بتایا کہ دونوں جنین بریگیڈ کے کمانڈر اور فائٹر تھے۔
ماہرین کے مطابق غیر مسلح قیدیوں کا قتل جنگی جرم ہے، تاہم اسرائیلی اہلکاروں کو فلسطینیوں کی ہلاکت پر شاذونادر ہی سزا ملتی ہے۔ IDF نے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران ہدف بنائے گئے افراد مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔













