سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ غیر معمولی ہے۔ دو سوال بہت اہم ہیں: ایک یہ کہ اس فیصلے کی معنویت اور اہمیت کیا ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟ اس کے اثرات کیا ہوں گے؟
پاکستان کا موقف بڑا واضح تھا کہ ویانا کنونشن برائے قانونِ معاہدات 1969 کے آرٹیکل 26 کے مطابق کوئی بھی دو طرفہ معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی ثالثی عدالت نے اس کو تسلیم کیا۔
پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت سے جو پانی بہہ کر پاکستان آتا ہے، اقوام متحدہ کے واٹر کورس کنونشن کے مطابق بھارت اس پانی کا مکمل مالک نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ وسیلہ ہے جس پر زیریں ملک یعنی پاکستان کے بھی جائز حقوق ہیں۔ ثالثی عدالت نے اس بات کی بھی توثیق کر دی۔
پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان سے معلومات شیئر کرنے کا پابند ہے۔ عدالت نے اس موقف کو بھی درست قرار دیا۔
پاکستان کا موقف تھا کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر کوئی ڈیم یا بند بنا کر اسے نہیں روک سکتا۔ یہ بات بھی درست قرار دے دی گئی ہے۔
پاکستان کا موقف بین الاقوامی قانون کی عملداری کا موقف تھا۔ جب کہ بھارت لاقانونیت اور ہٹ دھرمی پر کھڑا تھا۔ ثالثی عدالت میں قانون کی جیت ہوئی اور لاقانونیت کو شکسست ہوئی ہے۔
پاکستان کا موقف رہا ہے کہ پانی تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ واٹر کنونشن کے آرٹیکل 10 میں اس بات کو واضح طور پر بیان کیا جا چکا ہے۔ پھر پاکستان ایک زرعی ملک بھی ہے اور اس کی بقا کا انحصار پانی پر ہے۔ اگر پاکستان کو اس کے جائز حصے کے پانی سے محروم کیا جاتا ہے تو یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے جو ایک جنگی جرم بھی ہے۔
اس سیاق وسباق میں جب ہم عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو دیکھتے ہیں تو یہ پاکستان کی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ عسکری، سفارتی، قانونی، بھارت ہر محاذ پر پٹ چکا ہے۔
اب آئیے دوسرے سوال کی طرف کہ اس فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟ ثالثی عدالت کے پاس کوئی قوت نافذہ تو ہے نہیں کہ وہ طاقت کے ذریعے اس فیصلے کو نافذ کروا سکے۔ تو پھر اس فیصلے کی کوئی اہمیت بھی ہے یا یہ محض بے روح لفظوں کا ایک پلندہ ہے؟ ثالثی عدالت کے پاس بے شک قوت نافذہ نہیں ہے لیکن اس کا فیصلہ بہت اہم ہے۔آئیے دیکھ لیتے ہیں کہ کیسے؟
بھارت دنیا کی اکلوتی سپر پاور نہیں ہے، وہ اسی مرتی مارتی دنیا کا ایک کردار ہے۔ جب وہ اقوام متحدہ کے چارٹر، اس کے ضابطوں اور قوانین کو اس طرح پامال کرے گا اور ثالثی عدالت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا تو اس کے اپنے نتائج ہوں گے۔ ان نتائج سے بے نیاز رہنا بھارت کے لیے نہ آسان ہو گا، نہ ہی ممکن ہو گا۔ وقت کے ساتھ یہ بات واضح ہوتی جائے گی۔
یہ فیصلہ مختلف محاذوں پر بھارت کی سفارتی ہزیمت کا باعث بنتا رہے گا۔ پاکستان اقوام متحدہ میں جا سکتا ہے، سلامتی کونسل میں معاملے کو اٹھا سکتا ہے، ورلڈ بنک سے رجوع کر سکتا ہے، اپنی زراعت کو لاحق خطرات کے حوالے سے ہرجانے کا مضبوط مقدمہ کھڑا کر سکتا ہے، حقوق انسانی کا جاندار کیس بنا سکتا ہے۔ یعنی گلوبل ولیج نام کی اس دنیا میں بھارت کو ہر پلیٹ فارم پر مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم بنیادی اور اصل بات اور ہے۔ وہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ پانی ہمارے لیے زندگی ا ور موت کا مسئلہ ہے اور پانی کو روکا گیا تو ہم ا سے جنگ تصور کریں گے۔ یاد رہے کہ جب کسی ملک پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اس ملک کو دفاع کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔
اب جب ثالثی عدالت بھارت کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ بھارت کو سندھ طاس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیم وغیرہ بنانے کا کوئی حق نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان جوابی کارروائی کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت یہ ایک جائز حق دفاع تصور ہو گا۔
یہی نہیں بلکہ بھارت ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، کوئی ڈیم بناتا ہے تو وہ ڈیم جنگی قوانین کے تحت پاکستان کے لیے ایک ’ جائز عسکری ہدف‘ تصور ہو گا۔ جائز عسکری ہدف وہ ہوتا ہے جسے جنگ کے دوران ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے اور تباہ کیا جا سکتا ہے۔
انٹر نیشنل لا کے مطابق پانی کے ذخائر اور ڈیموں پر حملہ نہیں ہو سکتا لیکن اب یہاں معاملہ اور ہو گا۔ ثالثی عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگر کوئی ڈیم بنے گا تو وہ جائز ہدف قرار پائے گا اور اڑا دیا جائے گا۔
پھر یہ کہ پا کستان کے لوگ پانی جیسے زندگی کے بنیادی انسانی حق سے محروم کر دیے جائیں گے تو یہ جنگی جرم بھی ہو گا۔ اس کے خلاف جنگی جرم کے ضابطوں کے تحت کارروائی کی گنجائش بھی موجود ہو گی۔
پہلگام فالس فلیگ آپریشن سے بھارت کی ہزیمت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ اس سلسلہ کا تازہ پڑاؤ ہے۔ ہندتوا کی ہزیمت کا سفر جاری ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













