حکومت نے آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا، ظلم کے ضابطے نہیں مانتے، محمود اچکزئی

منگل 2 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کسی کو گالیاں دینے کے لیے نہیں بنائی۔ ہم ظلم کے ضابطے نہیں مانتے۔

عبدالصمد اچکزئی کی 52ویں برسی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین تھا جس انداز میں موجودہ حکومت بنائی گئی یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ آور ہوگی۔

مزید پڑھیں: فارم 47 کی مسلط حکومت نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، تحریک تحفظ آئین پاکستان

انہوں نے کہاکہ اسی لیے تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر تحریک تحفظ آئین پاکستان کی بنیاد رکھی، ہم ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں۔

محمود اچکزئی نے کہاکہ کسی جماعت کے پاس مکمل مینڈیٹ بھی ہو تو وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کر سکتی، یہاں تو آئین کا کباڑ خانہ کردیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں عدالتوں کو بند کردیا گیا، ججز استعفے دے رہے ہیں اور ہم سے اس امید کی جا رہی ہے کہ اس حکومت کا ساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں آئین نام کی کوئی چیز موجود نہیں، پی کے میپ اور اس کے دوستوں نے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے، کیوں کہ ایسا کرنا جہاد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صوابی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پاور شو، ہم نے چوروں کی حکومت کا راستہ روکنا ہے، محمود اچکزئی

محمود اچکزئی نے کہاکہ ہم ظلم کے ضابطے نہیں مانتے، پی کے میپ، تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ہم نے غیر منتخب پارلیمنٹ کو درست نہ کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان