کانگو اور روانڈا کے درمیان ٹرمپ کے امن معاہدے کے دوسرے دن دوبارہ شدید لڑائی، 23 افراد ہلاک

ہفتہ 6 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں کانگو اور روانڈا کے رہنماؤں نے واشنگٹن میں دیرینہ تنازع ختم کرنے کے لیے امن معاہدے پر دستخط کے گھنٹوں بعد جمہوریہ کانگو میں ایم 23 باغیوں اور سرکاری فورسز کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

دونوں فریقین نے جمعے کے روز ہونے والی تازہ لڑائی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا۔ باغی گروپ ایم 23 نے دعویٰ کیا کہ کانگولیز فوج کی گولہ باری سے 23 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ترجمان لارنس کانیوکا کے مطابق فوج نے شمالی اور جنوبی کیوو میں آبادی والے علاقوں پر فضائی حملے، ڈرونز اور بھاری توپ خانہ استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیے: داعش سے منسلک گروہ کا کانگو میں چرچ پر حملہ، 21 افراد ہلاک

رواں سال کے اوائل میں روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغی گومہ اور بوکاؤ جیسی مشرقی کانگو کی دو بڑی شہروں پر قبضہ کر چکے ہیں اور وہ امریکی امن معاہدے کے پابند نہیں ہیں۔

کانگو فوج کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ جنوبی کیوو کے علاقے کازیبا، کاٹوگوٹا اور رورامبو کے اطراف شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روانڈا ڈیفنس فورس کی بے دریغ گولہ باری کے باعث لُوونگی کے علاقوں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: کانگو میں پھنسے پاکستانیوں کو روانڈا میں داخلے کی اجازت مل گئی، دفتر خارجہ

لڑائی کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی ہوئی۔ روانڈا کے ضلع روسی زی کے عہدیدار فانوئل سینڈائی ہیبا نے بتایا کہ 700 سے زائد کانگولیز شہری، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، سرحد پار کر کے روانڈا پہنچے، جہاں انہیں عارضی کیمپ میں بنیادی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ بے گھر شہری اپنے سامان اور مویشیوں کے ساتھ بُگَرما-کامانیولا بارڈر کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق جولائی سے اکتوبر کے دوران کانگو میں جھڑپوں، حملوں، زمینی تنازعات اور قدرتی آفات کی وجہ سے 1 لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp