کراچی کی رہائشی نکیتا ناگدیو نے اپنے بھارتی شوہر وکرم ناگدیو پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے انہیں پاکستان میں تنہا چھوڑ کر بھارت میں دوسری شادی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
نکیتا کے مطابق ان کی شادی 26 جنوری 2020 کو کراچی میں ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی تھی۔ ایک ماہ بعد، 26 فروری کو وکرم انہیں بھارت لے گئے، مگر جلد ہی ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان یاترا کے دوران لاپتہ بھارتی سکھ خاتون نے اسلام قبول کر کے شادی کرلی
نکیتا کا کہنا ہے کہ 9 جولائی 2020 کو انہیں اٹاری بارڈر لے جا کر ’ویزا تکنیکی مسئلے‘ کا بہانہ بنا کر پاکستان واپس بھیج دیا گیا، جبکہ حقیقت میں وہ اس فیصلے پر مجبور کی گئیں۔ ان کے مطابق شوہر نے کبھی انہیں دوبارہ بھارت بلانے کی کوشش نہیں کی۔ کراچی سے جاری ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے بتایا کہ میں بار بار درخواست کرتی رہی، مگر انہوں نے ہر بار انکار کر دیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ شادی کے فوراً بعد سسرال والوں کا رویہ تبدیل ہو گیا اور انہیں معلوم ہوا کہ ان کے شوہر کا ایک رشتہ دار خاتون کے ساتھ تعلق تھا۔ جب انہوں نے اپنے سسر کو بتایا تو جواب ملا، ‘لڑکوں کے افیئر ہوتے ہیں، اس میں کچھ نہیں کیا جا سکتا۔’
یہ بھی پڑھیے: محبت کے لیے پاکستان آنے والی بھارتی خاتون انجو واپس کیوں جا رہی ہے؟
نکیتا نے الزام لگایا کہ کووِڈ لاک ڈاؤن کے دوران وکرم نے دباؤ ڈال کر انہیں پاکستان واپس بھیجا اور اس کے بعد سے بھارت میں ان کی واپسی روک دی گئی۔ انہوں نے اپنی ویڈیو میں بھارتی وزیراعظم مودی سے درخواست کی کہ وہ ان کے کیس میں مداخلت کریں اور انہیں انصاف دلانے میں مدد کریں۔
دوسری شادی کی کوشش؟
کراچی پہنچنے کے بعد نکیتا کو پتہ چلا کہ وکرم دہلی کی ایک اور خاتون سے شادی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ ان کی شادی اب بھی قانونی طور پر برقرار ہے۔ اس صورتحال پر انہوں نے 27 جنوری 2025 کو تحریری شکایت درج کرائی۔
یہ بھی پڑھیے: 22 برس تک پاکستان میں رہنے والی بھارتی خاتون وطن واپس روانہ
معاملہ سندھّی پنچ میڈی ایشن اینڈ لیگل کاؤنسل سینٹر نے اٹھایا، جو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اختیار کے تحت کام کرتا ہے۔ وکرم اور مبینہ منگیتر کو نوٹسز جاری کیے گئے مگر ثالثی ناکام رہی۔
30 اپریل 2025 کی رپورٹ میں مرکز نے قرار دیا کہ چونکہ دونوں فریق بھارتی شہری نہیں، اس لیے معاملہ پاکستان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ساتھ ہی وکرم کی پاکستان ڈی پورٹیشن کی سفارش بھی کی گئی۔














