پی ایس ایل میں شکست کا سوال کوچز سے مت کریں، وسیم اکرم کی ٹیم مالکان سے درخواست

پیر 8 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق پاکستانی کرکٹ کپتان اور لیجنڈری فاسٹ باؤلر وسیم اکرم نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی افراد لیگ کی ٹیمیں خریدیں وہ کوچز سے یہ سوال نہ کریں کہ میچ کیوں ہارے ہیں۔

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ اکثر میچ ہارنے کے بعد مالکان براہِ راست کوچز کے پاس آ جاتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ میچ کیوں ہارے ہیں۔ ان کے مطابق اس سوال کا واضح جواب دینا مشکل ہے کیونکہ کرکٹ ایک کھیل ہے اور اس میں کبھی کوئی جیتتا ہے تو کبھی ہارتا ہے۔

انہوں نے پی ایس ایل کی خوبصورتی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لیگ صرف 34 یا 35 دن میں مکمل ہو جاتی ہے جس سے یہ باقی دیگر کرکٹ لیگوں کی طرح طول پکڑنے سے بچ جاتی ہے، بچے بڑے ہوجاتے ہیں اور دوسری لیگ ختم ہی نہیں ہوتی۔

واضح رہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا روڈ شو برطانیہ کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں منعقد ہوا، جسے پاکستان کرکٹ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم