سمندری تحفظ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو نے ہاکس بل اور گرین ٹرٹلز کی لائیو سیٹلائٹ ٹریکنگ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت پہلی مرتبہ بحیرۂ احمر میں ایک گرین ٹرٹل کو بھی ٹریگ کیا گیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ ڈیٹا خطے میں معلومات کے ایک بڑے خلا کو پُر کرے گا اور ان عالمی سطح پر خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے لیے سرحد پار مشترکہ حکمتِ عملیوں میں مدد دے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اپنے حصے کے پانی کا تحفظ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرےگا، اسحاق ڈار
اس منصوبے کی قیادت ریزرو کے سینیئر میرین ایکولوجسٹ احمد محمد اور کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بیکن ڈیولپمنٹ کے سینیئر میرین میگافونا ماہر ہیکٹر بیریوس گیرّیڈو کر رہے ہیں۔
حالیہ کارروائی کے دوران ماہرین نے شدید خطرے سے دوچار 3 ہاکس بل کچھوؤں اور 7 گرین کچھوؤں کو محفوظ انداز میں پکڑ کر سیٹلائٹ ٹیگز لگائے۔ یہ ٹیگز ریئل ٹائم میں نقل و حرکت کا ڈیٹا بھیجتے ہیں جس سے خوراک کے مقامات، ہجرتی راستوں اور خاص طور پر انڈے اٹھائے ہوئے گرین ٹرٹل کے گھونسلہ بنانے کے مقام کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے، تاکہ مؤثر تحفظ اور انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پروگرام ریزرو کی سمندری تحفظ سے متعلق طویل المدتی کوششوں کا تسلسل ہے، جس کے تحت 2023 سے کچھوؤں کے گھونسلوں کی نگرانی اور حفاظت کا نظام نافذ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 5 فٹ لمبا آبی چھپکلی نما جانور 2 ریاستوں کو چکمہ دینے کے بعد گرفتار
پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو 4,000 مربع کلومیٹر بحیرۂ احمر کے آبی علاقے جو مملکت کے مجموعی سمندری رقبے کا 1.8 فیصد بنتا ہے اور 170 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کی حفاظت کرتا ہے، جو کسی ایک ادارے کے زیرِ انتظام مملکت کا سب سے طویل ساحل ہے۔ یہ نیوم اور ریڈ سی گلوبل کو ملاتے ہوئے 800 کلومیٹر طویل محفوظ ساحلی راہداری تشکیل دیتا ہے۔
ریزرو کے سی ای او اینڈریو زالومس نے کہا کہ شدید خطرے سے دوچار ہاکس بل کچھوے ہماری زندگی کے دوران ہی جنگلی حالت میں معدومی کے انتہائی خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق بحیرۂ احمر میں ان کی افزائش نسل کے قابل ماداؤں کی تعداد 200 سے بھی کم رہ گئی ہے، اور ان کی بقا کا دارومدار اہم معلوماتی خلا کو پُر کرنے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نیوم نیچر ریزرو: سعودی عرب میں حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی بحالی کی نئی حکمتِ عملی
یہ پروگرام اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے کنونشن آن مائیگریٹری اسپیشیز اور انڈین اوشن و جنوب مشرقی ایشیا میرین ٹرٹل مفاہمتی یادداشت کے تحت سعودی عرب کے عالمی وعدوں کی تکمیل میں بھی معاون ہے۔
احمد محمد کے مطابق جدید اور ہلکے وزن کے یہ ٹیگز کم از کم 12 ماہ تک کام کرتے ہیں، جس سے موسمی رویّوں اور افزائشی مساکن پر مسلسل اور تفصیلی ڈیٹا حاصل ہوتا ہے۔ گہرائی ناپنے والے سینسر سی گراس کے میدانوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جو گرین ٹرٹلز کے لیے خوراک کے اہم مقامات اور کاربن ذخیرہ کرنے کے قدرتی مراکز ہیں۔














