’میں نے تو پہلے ہی کہا تھا‘: فیض حمید کی یہ سزا بڑے نتائج کی شروعات ہے، فیصل واوڈا

جمعرات 11 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو سنائی جانے والی 14 سال قید کی سزا وہ پیشرفت ہے جس کے بارے میں انہوں نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا.۔ ان کا کہ بھی کہنا ہے کہ یہ سزا تو بس ایک شروعات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت،جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، آئی ایس پی آر

ایکس پر اپنے ایک بیان میں فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ سزا صرف ایک آغاز ہے اور مزید مقدمات اپنی نوعیت کے اعتبار سے بڑے نتائج لاسکتے ہیں۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ فیض حمید اس وقت اپنے ٹرائل میں 9 مئی واقعات سے متعلق شواہد اور گواہیاں فراہم کر رہے ہیں جن کا تعلق مبینہ طور پر سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں اور دیگر افراد سے جوڑا جاتا ہے۔

تاہم مؤقف کے مطابق یہ گواہیاں فیض حمید کی موجودہ سزا میں کمی کا باعث نہیں بنیں گی۔

مزید پڑھیے:  لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کون ہیں، انہیں کن جرائم کی سزا دی گئی؟

فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ 14 سال قید کی یہ سزا صرف ایک کیس (4 الزامات) میں سنائی گئی ہے جبکہ 9 مئی سمیت دیگر مقدمات میں ٹرائل ابھی جاری ہے۔

9 مئی سے متعلق دعوے اور پارٹی سے اخراج

انہوں نے کہا کہ انہیں 9 مئی کے واقعات سے ایک سال پہلے ہی پارٹی سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ قیادت کو ایسے راستے سے روک رہے تھے جو ان کے مطابق تباہی کی طرف لے جا رہا تھا اور جہاں سے پھر واپسی ممکن نہیں تھی۔

ان کے مطابق 9 مئی میں ملوث وہ افراد جو سیاسی طور پر پس منظر میں ہیں اور وہ لوگ بھی جو قلم کے ذریعے ریاست مخالف بیانیہ پھیلاتے رہے مستعفی ہونے کے باوجود احتساب سے نہیں بچ سکیں گے۔

مزید پڑھیں: فیض حمید کیس کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر آیا، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج بھی سیاست کو اسی سمت لے جانے والے عناصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوگی۔

قیادت کی حمایت اور ادارہ جاتی احتساب

فیصل واوڈا نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو قوم کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور ان کے مطابق 75 سال میں پہلی بار ادارے کے اندر سے انصاف کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

فیصلہ واضح کرگیا کوئی جج، جنرل رہنما پاکستان سے برتر نہیں

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان سے بڑا نہ کوئی جنرل ہے، نہ جج اور نہ سیاسی لیڈر بلکہ سب سے برتر پاکستان ہے۔

یہ بھی پڑھیے: فیض حمید کو سزا، اگلا کون؟ عمران خان سے متعلق بڑی پیشگوئی

انہوں نے کہا کہ جیسا انہوں نے پہلے کہا کہ ریاست مخالف ایجنڈا اپنانے والوں کے لیے اب کوئی گنجائش نہیں رہ گئی اور ایسے اقدامات کا راستہ اپنانے والوں کو قانونی طور پر عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے