امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقی ونگ میں نئے بال روم کے منصوبے کے خلاف تاریخی تحفظ کی ایک اہم تنظیم نے وائٹ ہاؤس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن نے دائر کیا ہے، جو 1949 میں قائم ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے اور کانگریس کے چارٹر کے تحت کام کرتی ہے۔ مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتظامیہ نے اکتوبر میں مشرقی ونگ کے ایک حصے کو مسمٹ کرنے سے قبل لازمی تاریخی اور ماحولیاتی جائزے حاصل نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب کا ڈونلڈ ٹرمپ سے مقدمہ نمٹانے کے لیے 24.5 ملین ڈالر کی ادائیگی پر اتفاق
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی صدر، چاہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہوں یا جو بائیڈن یا کوئی اور بغیر کسی جائزے کے وائٹ ہاؤس کے حصے کو قانونی طور پر مسمٹ نہیں کر سکتا۔‘
وائٹ ہاؤس نے اس منصوبے کو بہت ضروری اور شاندار اضافہ قرار دیا ہے۔ نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن چاہتی ہے کہ وفاقی عدالت تعمیراتی کام کو اس وقت تک روکے جب تک کہ وائٹ ہاؤس لازمی جائزے مکمل نہ کر لے، جن میں عوامی مشاورت کا عمل بھی شامل ہے۔
کارول کویلن، صدر نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ہمارے ملک کی سب سے زیادہ نمایاں عمارتوں میں سے ایک ہے اور عالمی سطح پر امریکی اصولوں کی علامت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا خاتون صحافی کو ’بیوقوف‘ قرار دینے پر نیا تنازع
وائٹ ہاؤس نے مقدمے کے جواب میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس کو جدید بنانے، تزئین و آرائش کرنے اور خوبصورت بنانے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے، جیسا کہ ان کے تمام پیشروؤں نے کیا۔‘
یاد رہے کہ اکتوبر میں ٹرمپ کے ملٹی ملین ڈالر کے بال روم کی تعمیر کے لیے مشرقی ونگ کے ایک حصے کو مسمٹ کیا گیا تھا، جس کے لیے انہوں نے نجی عطیات کا ذکر کیا تھا۔














