کریمہ بلوچ، بھارتی پراکسی سے اپنی راہ بدلنے تک کی کہانی

اتوار 14 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ کہانی ہے کریمہ بلوچ کی، جس نے کھلے عام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا ’بھائی‘ کہا اور رکشا بندھن کے موقع پر اسے راکھی باندھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس سوچ اور طرزِ عمل کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی وائی سی بھارتی پراکسی کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ نے ماہرنگ بلوچ نظر بندی کیس پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھیج دیا

کریمہ بلوچ نے اپنی عورت ہونے کی شناخت اور مظلومیت کے نعرے کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کو متحرک کیا، فنڈز اکٹھے کیے، اور بی ایس او آزاد جیسے دہشتگرد نرسری پلیٹ فارم کے ذریعے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تشدد اور بغاوت کی طرف راغب کیا۔ ان کی سرگرمیاں نہ بلوچستان کی فلاح سے جڑی تھیں اور نہ ہی بلوچ عوام کے مفاد سے، بلکہ بھارتی ایجنڈے کے تحت کی گئیں۔

مبینہ طور پر کریمہ بلوچ نے بیانیے کی آڑ میں فنڈز جمع کیے، شادی کی، اور کینیڈا میں سکونت اختیار کی۔ اسی طرزِ عمل کی وجہ سے بعد ازاں ماہرنگ بلوچ کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔

خطرات کے پیشِ نظر کینیڈا میں سیاسی پناہ کے بعد کریمہ بلوچ نے بی این ایم کے پلیٹ فارم کو ذاتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا، جس سے اس کا ماضی اور طریقۂ کار ڈاکٹر نسیم بلوچ سمیت بعض اسٹیک ہولڈرز کے لیے خطرہ بن گیا۔

آخرکار ذاتی مفادات اور زندگی کے نئے مرحلے کی طرف توجہ مرکوز کرنے کے بعد کریمہ بلوچ بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے منحرف ہوگئیں، جس کا انجام پہلے ہی طے تھا۔

یہ کہانی نہ صرف ایک فرد کی بلکہ اس نظام کی بھی عکاس ہے جس میں بین الاقوامی ایجنسیاں جیسے ’را‘ اپنے اہداف کو پھانسنے اور استعمال کرنے کے بعد ان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟