یہ کہانی ہے کریمہ بلوچ کی، جس نے کھلے عام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا ’بھائی‘ کہا اور رکشا بندھن کے موقع پر اسے راکھی باندھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس سوچ اور طرزِ عمل کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی وائی سی بھارتی پراکسی کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ نے ماہرنگ بلوچ نظر بندی کیس پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھیج دیا
کریمہ بلوچ نے اپنی عورت ہونے کی شناخت اور مظلومیت کے نعرے کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کو متحرک کیا، فنڈز اکٹھے کیے، اور بی ایس او آزاد جیسے دہشتگرد نرسری پلیٹ فارم کے ذریعے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تشدد اور بغاوت کی طرف راغب کیا۔ ان کی سرگرمیاں نہ بلوچستان کی فلاح سے جڑی تھیں اور نہ ہی بلوچ عوام کے مفاد سے، بلکہ بھارتی ایجنڈے کے تحت کی گئیں۔

مبینہ طور پر کریمہ بلوچ نے بیانیے کی آڑ میں فنڈز جمع کیے، شادی کی، اور کینیڈا میں سکونت اختیار کی۔ اسی طرزِ عمل کی وجہ سے بعد ازاں ماہرنگ بلوچ کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔
خطرات کے پیشِ نظر کینیڈا میں سیاسی پناہ کے بعد کریمہ بلوچ نے بی این ایم کے پلیٹ فارم کو ذاتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا، جس سے اس کا ماضی اور طریقۂ کار ڈاکٹر نسیم بلوچ سمیت بعض اسٹیک ہولڈرز کے لیے خطرہ بن گیا۔

آخرکار ذاتی مفادات اور زندگی کے نئے مرحلے کی طرف توجہ مرکوز کرنے کے بعد کریمہ بلوچ بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے منحرف ہوگئیں، جس کا انجام پہلے ہی طے تھا۔
یہ کہانی نہ صرف ایک فرد کی بلکہ اس نظام کی بھی عکاس ہے جس میں بین الاقوامی ایجنسیاں جیسے ’را‘ اپنے اہداف کو پھانسنے اور استعمال کرنے کے بعد ان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔














