قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے احتساب کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے بھی ملک کو نقصان پہنچایا، اسے قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔
کراچی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہاکہ ویسے یہ میرا کام نہیں، مگر میں خوش ہوں کہ فیض حمید اور دیگر افسران کا احتساب ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کیس: سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کیخلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
’یہ بات خوش آئند ہے کہ پاک فوج نے احتساب کا عمل اپنے اندر سے شروع کیا ہے، فوجی میری ہے اور مجھے فوج پر فخر ہے۔‘
پی ایس ایل کے نئے سیزن میں 2 اضافی فرنچائزز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہاکہ ٹیموں میں اضافہ خوش آئند ہے کیونکہ اس سے زیادہ کھلاڑیوں کو موقع ملے گا۔
انہوں نے مزید کہاکہ پی ایس ایل ہمارا اپنا برانڈ ہے اور روڈ شو اس کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں اب مزید تجربات کی ضرورت نہیں ہے اور ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کو فائنل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ وہ عالمی کپ سے قبل سیریز کے دوران کھلاڑیوں کی تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کے بعد امریکا میں پی ایس ایل کا روڈ شو، محسن نقوی کا لیگ کو نمبر ون بنانے کا اعلان
بگ بیش لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کیونکہ اس سے کھلاڑیوں کو تجربہ حاصل ہوگا۔













