وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تیل اور توانائی کے شعبے میں ممکنہ معاہدے پر سنجیدہ بات چیت جاری ہے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کی توانائی کی وزارتیں مسلسل رابطے میں ہیں۔
روسی خبر رساں ادارے ’آر آئی اے‘ کو دیے گئے انٹرویو میں محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تیل کی تلاش، پیداوار اور ریفائننگ جیسے شعبوں میں روس کو نمایاں مہارت حاصل ہے اور پاکستان ان شعبوں میں روس کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت نے امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، روس سے تیل کی درآمد بند
وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس وقت توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق امور پر دونوں ممالک کی وزارتیں مشاورت کر رہی ہیں۔ آر آئی اے کے مطابق روسی وزیر توانائی سرگئی تسویلیوف نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ روسی کمپنیاں پاکستان میں ایک آئل ریفائنری کی اپ گریڈیشن کے امکانات پر بھی بات کر رہی ہیں۔
حالیہ برسوں میں پاکستان اور روس کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے باعث روس نئے توانائی منڈیوں کی تلاش میں ہے، جبکہ پاکستان درآمدی توانائی پر آنے والے اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے 2023 میں روسی خام تیل کی خریداری کا آغاز کیا تھا۔
مزید پڑھیں: روس سے تیل کی خریداری امریکا اور بھارت کے تعلقات میں ’چبھتا ہوا نکتہ‘ بن چکا، مارکو روبیو
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک پاکستان میں نئی اسٹیل مل کے قیام کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔
توانائی تعاون سے متعلق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے روسی توانائی کی درآمدات کے بدلے سزا کے طور پر بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا، جس کے بعد مجموعی محصولات کی شرح 50 فیصد تک جا پہنچی، جو کسی بھی ملک پر عائد کی گئی بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔












