بنگلہ دیش نیوی نے میانمار سیمنٹ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 2 انجن سے چلنے والی کشتیاں تحویل میں لے لیں اور 23 افراد کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی سمندری خودمختاری کے تحفظ، سمندری سلامتی اور سمندر میں امن و امان برقرار رکھنے کی کوششوں کے تحت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نیول اکیڈمی میں شاندار ونٹر پریزیڈنشل پریڈ، پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو باضابطہ کمیشن دیا گیا
بنگلہ دیش نیوی کے مطابق یہ کارروائی منگل 16 دسمبر کو خلیج بنگال میں معمول کی گشت کے دوران کی گئی۔ منظم اسمگلنگ نیٹ ورک سے متعلق خفیہ اطلاعات پر سینٹ مارٹن جزیرے اور اس سے ملحقہ سمندری حدود میں نگرانی سخت کر دی گئی۔
گشت کے دوران نیوی کے جہاز بی این ایس شہید محب اللہ نے کتبڈیا لائٹ ہاؤس سے تقریباً 46 ناٹیکل میل کے فاصلے پر دو مشتبہ لکڑی کی کشتیاں دیکھیں جو کتبڈیا کی آؤٹر اینکریج کے قریب موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کا جہاز پی این ایس سیف خیرسگالی دورے پر چٹاگانگ پہنچ گیا
روکنے کا اشارہ دینے پر کشتیاں فرار ہونے کی کوشش کرنے لگیں، تاہم تعاقب کے بعد نیوی نے دونوں کشتیاں قبضے میں لے لیں، جن کی شناخت ایف بی عزیز الحق اور ایف بی رونا اختر کے نام سے ہوئی۔
تلاشی کے دوران کشتیوں سے بنگلہ دیشی ڈائمنڈ سیمنٹ کی 1 ہزار 750 بوریاں اور 32 موبائل فون برآمد ہوئے۔ کشتیوں میں سوار اسمگلنگ گروہ کے تمام 23 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: باسمتی چاول سے لدا پاکستانی جہاز آئندہ ہفتے بنگلہ دیش کی مونگلا بندرگاہ پہنچے گا
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزمان کسٹم ڈیوٹی سے بچنے اور زیادہ منافع کمانے کے لیے سیمنٹ سمندری راستے سے میانمار منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ضبط شدہ سامان اور گرفتار افراد کو قانونی کارروائی کے لیے پٹینگا ماڈل تھانے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش نیوی کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل، اندرونی سلامتی کو لاحق خطرات اور سمندر میں دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے ساحلی اور سمندری علاقوں میں گشت اور آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔












