پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سڈنی کے بونڈی بیچ میں ہونے والا دہشت گرد حملہ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی اور اسرائیلی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے بغیر مصدقہ شواہد کے پاکستان پر الزامات عائد کرنا الٹا خود ان کے لیے سوالیہ نشان بن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر خزانہ کی ایف اے ٹی ایف گائیڈ لائنز کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار کو یقینی بنانے کی ہدایت
انہوں نے کہا کہ انتہائی تیزی اور شدت کے ساتھ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جو غلط معلومات اور پروپیگنڈے پر مبنی ہے اور عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی سنجیدہ کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ شیری رحمان کے مطابق یک طرفہ بیانیے نہ صرف حقائق کو مسخ کرتے ہیں بلکہ بین الاقوامی احتسابی نظاموں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
سینیٹر شیری رحمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ پہلا موقع نہیں جب عالمی دہشت گرد حملوں میں بھارتی روابط پر سوالات اٹھے ہوں، اس لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کو بھی ان واقعات میں بڑھتے ہوئے بھارتی نشانات کا جائزہ لینا چاہیے، جن میں گزشتہ برس کینیڈا اور دیگر ممالک میں ہونے والے حملے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے عالمی فریم ورک میں تمام ریاستوں کے ساتھ یکساں معیار اور اصول لاگو ہونے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’تم آسٹریلیا کے ہیرو ہو‘ وزیرِاعظم انتھونی البانیز کی سڈنی کے ہیرو احمد الاحمد سے اسپتال میں ملاقات کی
انہوں نے مزید کہا کہ بونڈی بیچ حملے کو اب اس کے اصل دہشت گردانہ پہلو سے ہٹا کر شناختی سیاست کی بحث میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو خطرناک ہے۔ اس طرح کی تشریح حملے کی مجرمانہ نوعیت کو دھندلا دیتی ہے اور معاشرتی تعصب، دوسروں کو کمتر سمجھنے اور نفرت پر مبنی تشدد کو فروغ دے سکتی ہے، جبکہ اصل مقصد انصاف کا حصول ہونا چاہیے۔
سینیٹر شیری رحمان نے اس اہم حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اگرچہ سڈنی میں حملہ آوروں کا تعلق مبینہ طور پر مسلم پس منظر سے بتایا جا رہا ہے، لیکن احمد الاحمد، جس نے بہادری سے ایک حملہ آور کا مقابلہ کیا اور قیمتی جانیں بچانے میں مدد دی، خود بھی آسٹریلیا میں مقیم ایک مسلمان مہاجر ہے۔ آسٹریلوی حکام نے احمد الاحمد کو کھلے عام ’ہیرو‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت پورے معاشروں کو بدنام کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس گھناؤنے حملے کے بعد اسلاموفوبیا میں اضافہ نہایت غلط اور شدید ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مشرقی وسطیٰ سے تعلق رکھنے والا سڈنی واقعے کا دوسرا ہیرو جسے دہشتگرد سمجھ کر فائر کھولا گیا
سینیٹر شیری رحمان نے زور دیا کہ ایسے سانحات کے بعد نفرت اور تعصب، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف، کسی صورت قبول نہیں کیے جا سکتے۔ دہشت گردی کے واقعات کو کسی بھی مذہب، شناخت یا جغرافیائی سیاست کی بنیاد پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ شہریوں کے خلاف تشدد ہر حال میں ناقابلِ دفاع ہے، چاہے وہ بونڈی بیچ جیسی عوامی جگہ ہو یا غزہ جیسے تنازعاتی علاقے۔ انہوں نے ذمہ دارانہ صحافت، حقائق پر مبنی تحقیقات اور انصاف، احتساب اور انسانی وقار کے احترام پر مبنی عالمی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔














