بونڈی بیچ حملہ: آسٹریلوی وزیرِاعظم کا نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

جمعرات 18 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا کے  وزیرِاعظم البانیزی نے اعلان کیا کہ حکومت ایسی قانون سازی متعارف کرائے گی جس کے تحت نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف مقدمات چلانا آسان ہو جائے گا۔

وزیرِاعظم انتھونی البانیزی نے جمعرات کے روز نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اعلان سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر یہودی تہوار کے دوران ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں:سڈنی: یہودیوں کی تقریب میں فائرنگ، ہلاکتوں کی تعداد 16ہوگئی

اتوار کے روز، مبینہ طور پر بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک باپ اور بیٹے نے اس وقت فائرنگ کر دی جب سینکڑوں افراد بونڈی بیچ پر یہودی تہوار حنوکہ منا رہے تھے۔ اس حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ حکام کے مطابق، حملہ بظاہر داعش سے متاثر تھا۔

نفرت انگیز تقاریر کے خلاف حکومتی اقدامات

وزیرِاعظم البانیزی نے اعلان کیا کہ حکومت ایسی قانون سازی متعارف کرائے گی جس کے تحت نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف مقدمات چلانا آسان ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سزائیں سخت کی جائیں گی، ویزا منسوخ یا مسترد کرنا آسان بنایا جائے گا، اور ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار تیار کیا جائے گا جن کے رہنما نفرت انگیز بیانات دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بونڈی بیچ واقعہ: حملہ آور بھارتی شہری تھے، فلپائن امیگریشن نے تصدیق کر دی

البانیزی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ آسٹریلوی عوام صدمے اور غصے میں ہیں، اور میں خود بھی غصے میں ہوں۔ یہ واضح ہے کہ ہمیں اس برائی کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔

داعش اور فلپائن روابط کی تحقیقات

پولیس کے مطابق حملہ ساجد اکرم (50 سال) اور اس کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم نے کیا۔ ساجد اکرم کو موقع پر پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا، جبکہ نوید اکرم کو ہوش میں آنے کے بعد قتل اور دہشتگردی سمیت 59 الزامات کے تحت چارج کیا گیا ہے۔ اس کا مقدمہ اپریل 2026 تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے سڈنی حملہ آوروں نے نہتے لوگوں کو کیسے نشانا بنایا؟ عینی شاہدین نے تفصیلات بتا دیں

حکام آسٹریلیا میں موجود داعش نیٹ ورکس اور حملہ آوروں کے فلپائن میں شدت پسندوں سے ممکنہ روابط کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

فلپائن کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ اگرچہ باپ بیٹا نومبر میں ایک ماہ کے لیے فلپائن میں موجود تھے، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ انہوں نے وہاں کسی قسم کی عسکری تربیت حاصل کی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

معروف PUBG کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد کا انتقال کیسے ہوا؟ موت کی وجہ سامنے آگئی

اسحاق ڈار کی برطانوی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات، خطے کی سیکیورٹی اور پاک برطانیہ تعاون پر تبادلہ خیال

انڈونیشیا: بدعنوانی کے خلاف ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، روزانہ صرف 2 گھنٹے استعمال کی اجازت

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ