نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ہمراہ کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے علاقوں میں چھاپے مار کر متعدد غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا ہے، جو مبینہ طور پر ایک فراڈ پونزی اسکیم چلا رہے تھے۔
این سی سی آئی اے کے بیان کے مطابق یہ کارروائی ڈی ایچ اے فیز 1 اور فیز 6 میں انجام دی گئی، جہاں گرفتار شدگان سے اہم اور حساس ڈیٹا بھی برآمد کیا گیا ہے، جو تفتیش کے لیے جانچا جا رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرفتار افراد ایک منظم پونزی نیٹ ورک چلا رہے تھے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو مالی نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: این سی سی آئی اے نے مالی فراڈ میں ملوث 8 رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نیٹ ورک کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی اور تفتیش کے دوران مزید ملزمان کی شناخت کی جائے گی۔ تاہم جرم کی مکمل حد اور شامل افراد کی تفصیلات ابھی تصدیق طلب ہیں۔

این سی سی آئی اے نے اس سے قبل جولائی میں فیصل آباد میں ایک پونزی رِنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 149 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں 48 چینی شہری بھی شامل تھے۔ فروری میں نیشنل اکاؤنٹی بیورو (نیب) لاہور نے بھی متعدد اداروں کے خلاف مالی اسکینڈلز میں ملوث ہونے پر کارروائیاں کی تھیں، جن میں لوگوں کو فراڈولنٹ اسکیموں میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا گیا تھا۔
پونزی اسکیم کیا ہے؟
پونزی اسکیم کی اصطلاح چارلس پونزی کے نام سے جانی جاتی ہے، جنہوں نے 1920 کی دہائی میں جعلی سرمایہ کاری کے نظام کے ذریعے زیادہ منافع کا وعدہ کیا اور ابتدائی سرمایہ کاروں کو بعد کے سرمایہ کاروں کے پیسے سے منافع ادا کیا۔ یہ فراڈ آج بھی آن لائن پلیٹ فارمز پر پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ ختم، نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی فعال
پونزی اسکیم ایک مالیاتی فراڈ (دھوکہ دہی) کی شکل ہے، جس میں سرمایہ کاروں کو غیر حقیقی کاروبار یا منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کا کہا جاتا ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد یہ دکھانا ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری سے زیادہ منافع حاصل ہوگا، جبکہ حقیقت میں کوئی حقیقی کاروبار یا منافع بخش سرگرمی نہیں ہوتی۔
اس میں ابتدائی سرمایہ کاروں کو منافع دینے کے لیے بعد میں آنے والے سرمایہ کاروں کے پیسے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یعنی نئے سرمایہ کاروں کے فنڈز سے پرانے سرمایہ کاروں کو ادائیگی کی جاتی ہے، تاکہ سب کو یہ لگے کہ اسکیم کامیاب اور منافع بخش ہے۔













