اسلام آباد کبھی پاکستان کا ایک پُرسکون اور منظم شہر کہلاتا تھا، جہاں کھلی سڑکیں، رواں ٹریفک اور نسبتاً کم رش شہری زندگی کا خاصہ سمجھے جاتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت بھی دیگر بڑے شہروں کی طرح شدید ٹریفک دباؤ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔
آئے روز شہر کی اہم سڑکیں اور شاہراہیں ٹریفک کے باعث بند یا شدید جام کا شکار نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو روزمرہ معمولات میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایک ہفتے میں کتنی گاڑیوں کے چالان کیے؟
عام تاثر یہ رہا ہے کہ غیر ملکی مہمانوں، اہم شخصیات کی آمدورفت اور سیکیورٹی روٹس لگنے کے باعث شہریوں کو گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسنا پڑتا ہے۔
تاہم اگر شہر کی سڑکوں پر ایک نظر دوڑائی جائے تو حقیقت اس سے کہیں مختلف دکھائی دیتی ہے۔ وہ سڑکیں جو کبھی ٹریفک سے پاک اور پُرسکون ہوا کرتی تھیں، آج ہر وقت گاڑیوں کی طویل قطاروں سے بھری نظر آتی ہیں، جو اسلام آباد میں تیزی سے بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد کی واضح علامت ہے۔
اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد سے متعلق جاننے کے لیے وی نیوز نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے رابطہ کیا، تاکہ شہر میں رجسٹرڈ وہیکلز کے اعداد و شمار حاصل کیے جا سکیں، اور یہ واضح ہو کہ آیا واقعی وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔
’اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی مجموعی تعداد 17 لاکھ 46 ہزار 50 تک پہنچ گئی‘
اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی مجموعی تعداد 17 لاکھ 46 ہزار 50 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ ڈیٹا 1980 سے لے کر 17 دسمبر 2025 تک کے عرصے پر مشتمل ہے، جو شہر میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور شہری آبادی میں اضافے کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی کل آبادی 23 لاکھ 63 ہزار 863 افراد پر مشتمل ہے۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں میں دو پہیہ گاڑیوں (موٹر سائیکلز) کی تعداد 6 لاکھ 47 ہزار 56 ہے، جبکہ چار پہیہ گاڑیوں (کارز، جیپس وغیرہ) کی تعداد 10 لاکھ 98 ہزار 994 ریکارڈ کی گئی ہے۔
’چار پہیہ گاڑیوں کی تعداد دو پہیہ گاڑیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ‘
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار پہیہ گاڑیوں کی تعداد دو پہیہ گاڑیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جو شہریوں کے بڑھتے ہوئے معیارِ زندگی اور نجی ٹرانسپورٹ پر انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔
اگر گزشتہ پانچ برسوں (2021 تا 17 دسمبر 2025) کا جائزہ لیا جائے تو اسلام آباد میں گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 6 لاکھ 26 ہزار 563 نئی گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ ان میں 3 لاکھ 19 ہزار 145 موٹر سائیکلز شامل ہیں، جبکہ 3 لاکھ 7 ہزار 418 چار پہیہ گاڑیاں سڑکوں پر آئیں۔
ماہرین کے مطابق گاڑیوں میں اس تیز رفتار اضافے کے باعث نہ صرف ٹریفک مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور شہری منصوبہ بندی کے چیلنجز بھی سنگین صورت اختیار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے متعلق ہیں جو اسلام آباد کی نمبر پلیٹس کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، یعنی جو اسلام آباد کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ کی گئی ہیں۔
’اسلام آباد میں چلنے والی وہ گاڑیاں جو دیگر شہروں میں رجسٹرڈ ہیں کا اندازہ لگانا مشکل‘
اس کے علاوہ دیگر شہروں میں رجسٹرڈ وہ گاڑیاں جو اب اسلام آباد کی سڑکوں پر چل رہی ہیں، ان کی تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ یہ معلومات الگ سے جمع نہیں کی جاتیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ’گڈ سٹیزن‘ اسٹیکر کیا ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار، تعلیم اور دیگر وجوہات کی بنا پر اسلام آباد منتقل ہوئے ہیں، اور ان میں سے اکثر اپنی پرانی رجسٹرڈ گاڑیاں ساتھ لائے ہیں۔ اس وجہ سے شہر میں مجموعی طور پر چلنے والی گاڑیوں کی اصل تعداد بیان کردہ رجسٹرڈ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔













