امریکا نے جمعرات کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے مزید 2 ججوں پر پابندیاں عائد کر دیں، جب عدالت نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات ختم کرنے کی اسرائیلی درخواست مسترد کر دی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں پیر کے روز ہونے والے اس فیصلے کے ردعمل میں لگائی گئیں، جس میں ان دونوں ججوں نے اکثریتی فیصلے کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس برقرار رکھے۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا
مارکو روبیو نے بیان میں کہا، ہم آئی سی سی کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کو برداشت نہیں کریں گے جو امریکا اور اسرائیل کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتا ہے اور امریکی و اسرائیلی افراد کو غلط طور پر آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں لاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، آئی سی سی کی قانونی جنگ اور حد سے تجاوز پر ہم ٹھوس اور نمایاں نتائج کے ساتھ ردعمل دیتے رہیں گے۔
ان نئی پابندیوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں پابندیوں کی زد میں آنے والے آئی سی سی کے ججوں کی تعداد کم از کم 8 ہو گئی ہے، جبکہ چیف پراسیکیوٹر کریم خان سمیت کم از کم 3 پراسیکیوٹرز بھی نشانہ بن چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی جارحیت کیخلاف ترکیہ کی عالمی عدالت انصاف میں فریق بننے کی درخواست
ہیگ میں قائم آئی سی سی نے ان تازہ پابندیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر جانبدار عدالتی ادارے کی آزادی پر کھلا حملہ ہے۔
اسرائیل نے امریکی اقدام کا خیرمقدم کیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، سیکرٹری روبیو، اس واضح اور اخلاقی مؤقف پر آپ کا شکریہ۔
پابندیوں کی زد میں آنے والے نئے ججوں میں جارجیا کے سابق وزیر انصاف گوچا لورڈکیپانیدزے اور منگولیا کے ایرڈینیبالسورن دامدن شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت ججوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور امریکی مالیاتی نظام میں ان کے اثاثے یا لین دین بھی منجمد ہو جائیں گے۔














