بنگلہ دیش کے انقلابی نوجوانوں کی تنظیم ’انقلاب منچہ‘ کے بانی شریف عثمان ہادی، جو گزشتہ جمعہ ڈھاکا کے پورانا پلٹن علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہوئے تھے، سنگاپور جنرل اسپتال میں دورانِ علاج انتقال کر گئے۔ ان کی موت کی تصدیق انقلاب منچہ اور ان کے تصدیق شدہ فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے کی گئی۔
شریف عثمان ہادی کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد دارالحکومت ڈھاکا میں شدید ہنگامے شروع ہوگئے۔ جمعرات کی رات بنگلہ اخبار روزنامہ ’پروتھوم آلو‘ اور انگریزی اخبار ’ دی ڈیلی اسٹار‘ کے مرکزی دفاتر پر مشتعل افراد نے حملہ، توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کی۔
مزید پڑھیں: ڈھاکہ، انقلاب منچہ کے ترجمان عثمان ہادی پر حملے کے ملزمان کی شناخت ہوگئی
عینی شاہدین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، شریف عثمان ہادی کی موت کی خبر پھیلتے ہی شاہ باغ سے ایک جلوس کاوران بازار کی جانب روانہ ہوا۔ جلوس کے شرکا نے بھارت اور عوامی لیگ کے حامی اخبار ’پروتھوم آلو‘ کے دفتر کو گھیرے میں لے کر احتجاج شروع کیا۔ موقع پر موجود پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے میں ناکام رہی اور صورتحال تیزی سے بے قابو ہو گئی۔ پروتھوم آلو کی ملکیت ایک 4 منزلہ عمارت مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی۔ علاوہ ازیں مظاہرین نے ’دی ڈیلی اسٹار‘ کے دفتر پر حملہ کرکے اسے بھی آگ لگادی۔
فائر سروس اور سول ڈیفنس کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔ عمارت میں پھنسے صحافیوں اور عملے کے کئی افراد کو کرینوں کے ذریعے بحفاظت باہر نکالا گیا۔
رات 11:45 بجے حملہ، دفاتر میں آگ لگا دی گئی
حملہ رات تقریباً 11:45 بجے شروع ہوا۔ لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے لیس افراد نے عمارت کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے۔ آدھی رات کے بعد مظاہرین دفتر کے اندر داخل ہو گئے اور میزیں، کرسیاں اور اہم دستاویزات باہر نکال کر سڑک پر آگ لگا دی۔
’پروتھوم آلو‘ کے ایک صحافی نے بتایا کہ متعدد صحافی اور عملے کے افراد اب بھی دفتر کے اندر محصور ہیں اور علاقے میں شدید خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔
متاثرہ عمارت میں اشاعتی شعبہ، ایک آن لائن کتابی پلیٹ فارم اور انتظامی دفاتر قائم تھے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی، سامان لوٹا اور قیمتی آلات تباہ کر دیے۔ نورالکبیر، جو ’نیو ایج‘ کے ایڈیٹر اور ایڈیٹرز کونسل کے صدر ہیں، کو موقع پر آنے کے دوران ہراساں کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیو کلپس وائرل ہوئے۔ نوجوان نورالکبیر کو گالیاں دے رہے ہیں، انہیں ’عوامی لیگ کا ایجنٹ‘ کہہ رہے ہیں، ایک نوجوان انہیں بالوں سے کھینچتا نظر آ رہا ہے۔
ثقافتی اور تاریخی مقامات بھی نشانہ
تشدد کا دائرہ میڈیا دفاتر تک محدود نہیں رہا۔ دھان منڈی میں بنگلہ دیش کے معروف ثقافتی ادارے ’چھایانٹ‘ کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا اور آگ لگا دی گئی، جس کے بعد ادارے نے غیر معینہ مدت کے لیے اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر دیں۔
دھان منڈی-32 میں واقع بنگلہ دیش کے بانی رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کی تاریخی رہائش گاہ، جو پہلے ہی جزوی طور پر تباہ ہو چکی تھی، ایک بار پھر حملے کا نشانہ بنی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں عمارت کے باقی ماندہ حصوں کو مزید منہدم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
بھارتی ہائی کمیشن پر حملہ
چٹاگانگ میں مظاہرین نے بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن کی عمارت پر پتھراؤ کیا۔ یہ واقعہ انقلاب منچہ کے حامیوں کے مظاہرے کے بعد پیش آیا۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بھارت کیخلاف عوامی غم و غصہ اس لیے بھی ہے کہ بنگلا دیشی پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں مرکزی ملزم فیصل کریم مسعود اور اس کا ساتھی عالمگیر شیخ بھارت سے داخل ہوئے اور حملے کے بعد فرار ہو گئے۔ گرفتار کرنے کے لیے پانچ لاکھ ٹکا انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسی شہر میں ایک سابق میئر کی رہائش گاہ کو بھی نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ راجشاہی میں حکمراں جماعت عوامی لیگ کے پارٹی دفتر کو مسمار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے، تاہم آخری اطلاعات تک علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش: قاتلانہ حملے میں زخمی طلبہ تحریک کے رہنما عثمان ہادی دوران علاج چل بسے
شریف عثمان ہادی کی موت
بنگلہ دیش کے انقلابی نوجوانوں کی تنظیم ’انقلاب منچہ‘ کے بانی شریف عثمان ہادی، جو گزشتہ جمعہ ڈھاکا کے پورانا پلٹن علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہوئے تھے، سنگاپور جنرل اسپتال میں دورانِ علاج انتقال کر گئے۔ ان کی موت کی تصدیق انقلاب منچہ اور ان کے تصدیق شدہ فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے کی گئی۔
انقلاب منچہ کے مطابق، شریف عثمان ہادی رات 9:45 بجے (بنگلہ دیشی وقت) انتقال کر گئے۔ وہ آئندہ قومی انتخابات میں ڈھاکا-8 سے ممکنہ امیدوار بھی سمجھے جا رہے تھے۔
سر میں گولی، دماغ کو شدید نقصان
تحقیقات کے مطابق، حملہ آور نے موٹر سائیکل سے ان پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گولی ان کے بائیں کان کے اوپر سے داخل ہو کر سر کے دائیں حصے سے نکل گئی، جس سے برین اسٹیم کو شدید نقصان پہنچا۔ ابتدائی طور پر انہیں ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سنگاپور بھیجا گیا۔
ملزمان کی شناخت، گرفتاریاں جاری
پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) نے فائرنگ کے مرکزی ملزم فیصل کریم مسعود اور اس کے ساتھی عالمگیر شیخ کی شناخت کر لی ہے، جو مبینہ طور پر بھارت فرار ہو چکے ہیں۔ اب تک اس قتل کے سلسلے میں 14 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں ملزم کے قریبی رشتہ دار اور انسانی اسمگلنگ سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔
سیاسی جماعتوں کا اظہارِ تعزیت
بی این پی، نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) جماعتِ اسلامی نے شریف عثمان ہادی کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ این سی پی نے اپنے بیان میں مرحوم کی مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔












