اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر شفاف اور نیک نیتی کے ساتھ عمل نہ کرنے اور انسانی حقوق کی پامالی کے خطرات کے پیش نظر رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بھارت سے وضاحت طلب کی گئی تھی کہ وہ پاکستان کے حقوق کی خلاف ورزی سے باز رہے اور پانی میں رکاوٹ سے پیدا ہونے والے انسانی نقصان کا ازالہ کرے۔
یو این اسپیشل رپورٹرز نے بھارتی حکومت کو سوال نامہ بھیجا اور متعدد سوالات کیے، جن میں شامل ہیں:
کیا بھارت کے پاس سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں؟
مزید پڑھیں:بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار
کیا بھارت انسانی زندگی کے نقصان کی ذمہ داری لے گا؟
کیا بھارت معاہدے کی تمام شقوں کی پاسداری کرے گا؟
کیا بھارت جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کے لیے اقدامات اٹھائے گا؟
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کو تمام سوالات کے جوابات 60 دن کے اندر فراہم کرنے تھے، اور ان کے جوابات رپورٹ کے ساتھ ہی ویب سائٹ پر آویزاں کیے جائیں گے اور ہیومن رائٹس کونسل میں پیش کیے جائیں گے۔
تاہم، اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین کے مطابق بھارت نے رپورٹ کی شفافیت اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات کے جواب فراہم نہیں کیے، جس کے بعد ماہرین نے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو ممکنہ بڑے سیلاب سے آگاہ کردیا
رپورٹ میں بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور سندھ طاس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔














